مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ . باب: تقدیر پر ایمان رکھنا
وَعَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّ عُبَادَةَ لَمَّا حَضَرَ قَالَ لَهُ ابْنُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : يَا أَبَتَاهُ ، أَوْصِنِي ، قَالَ : أَجْلِسُونِي ، فَأَجْلَسُوهُ ، فَقَالَ : يَا بُنَيَّ ، اتَّقِ اللَّهَ ، وَلَنْ تَتَّقِيَ اللَّهَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِاللَّهِ ، وَلَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ ، وَأَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ ، وَإِنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْقَدَرُ عَلَى هَذَا ، مَنْ مَاتَ عَلَى غَيْرِهِ دَخَلَ النَّارَ " . ¤ولید بن عبادہ بیان کرتے ہیں جب سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا آخری وقت قریب آیا تو ان کے صاحبزادے عبدالرحمن نے ان سے گزارش کی : ابا جان ! آپ ہمیں کوئی نصیحت کیجئے ، انہوں نے فرمایا : تم لوگ مجھے بٹھاؤ ! لوگوں نے انہیں بٹھایا ، تو انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹو ! تم اللہ سے ڈرتے رہنا اور تم اللہ تعالیٰ سے اس وقت تک نہیں ڈرو گے ، جب تک تم اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتے اور تم اللہ تعالیٰ پر اس وقت تک ایمان نہیں رکھو گے ، جب تک تم اچھی اور بری ، ہر قسم کی تقدیر پر ایمان نہیں رکھتے ، اور یہ نہیں جان لیتے کہ جو چیز تمہیں ملنی ہے ، وہ تمہیں ملے بغیر نہیں رہے گی اور جو چیز تمہیں نہیں ملنی ہے ، وہ تمہیں نہیں ملے گی ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تقدیر پر ایمان ، اس کے مطابق ہوتا ہے ، جو شخص اس کے علاوہ پر مرے گا ، وہ جہنم میں جائے گا ۔ “