مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ . باب: تقدیر پر ایمان رکھنا
وَعَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ عَنِ الْقَدَرِ ، فَقَالَ : إِنِّي قَدْ خَاصَمْتُ أَهْلَ الْقَدَرِ حَتَّى أَخْرَجُونِي ، فَهَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ عِلْمٍ فَتُحَدِّثُونِي ؟ فَقَالُوا : لَوْ أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - عَذَّبَ أَهْلَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ عَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ ، وَلَوْ أَدْخَلَهُمْ فِي رَحْمَتِهِ كَانَتْ رَحْمَتُهُ أَوْسَعَ مِنْ ذُنُوبِهِمْ ، وَلَكِنَّهُ كَمَا قَضَى يُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَيَرْحَمُ مَنْ يَشَاءُ ، فَمَنْ عُذِّبَ فَهُوَ الْحَقُّ ، وَمَنْ رُحِمَ فَهُوَ الْحَقُّ ، وَلَوْ كَانَ لَكَ مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا تُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا قُبِلَ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ ، ثُمَّ قَالَ عِمْرَانُ لِأَبِي الْأَسْوَدِ حِينَ حَدَّثَهُ الْحَدِيثَ : سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَمِعَهُ مَعِي عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَسَأَلَهُمَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، فَحَدَّثَاهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ هَذِهِ الطَّرِيقِ ثِقَاتٌ . ¤ابواسود دؤلی کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے تقدیر کے بارے میں سوال کیا اور بولے : میں قدریہ فرقے کے لوگوں کے ساتھ بحث کرتا رہا ، یہاں تک کہ ان لوگوں نے مجھے نکال دیا ، تو کیا آپ لوگوں کے پاس اس حوالے سے کوئی علم ہے ؟ اگر ہے تو آپ مجھے بیان کریں ! ان حضرات نے یہ فرمایا : ” اگر اللہ تعالیٰ تمام آسمان والوں اور زمین کو والوں عذاب دے ، تو وہ انہیں عذاب دیتے ہوئے ظلم کرنے والا نہیں ہو گا اور اگر وہ اُن سب کو اپنی رحمت میں داخل کر لے ، تو اُس کی رحمت ان لوگوں کے گناہوں کے مقابلے میں زیادہ وسعت والی ہے ، لیکن صورت حال اسی طرح ہے ، جس طرح اس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ جسے چاہے گا ، اسے عذاب دے گا اور جس پر چاہے گا ، اس پر رحم کرے گا ، تو جسے وہ عذاب دے گا ، تو یہ بھی حق کے مطابق ہو گا ، اور جس پر وہ رحم کرے گا ، تو یہ بھی حق کے مطابق ہو گا ، اگر تمہارے پاس اُحد پہاڑ جتنا سونا ہو ، اور اُسے تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو ، تو یہ تمہاری طرف سے اُس وقت تک قبول نہیں ہو گا ، جب تک تم اچھی اور بری ، ہر قسم کی تقدیر پر ایمان نہیں رکھتے ۔ “ پھر سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے ابواسود دؤلی کو یہ حدیث بیان کرنے کے بعد فرمایا : میں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے ، اور میرے ساتھ یہ بات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بھی سنی ہے ، ابواسود نے اُن دونوں صاحبان سے یہ سوال کیا ، تو ان دونوں حضرات نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث انہیں بیان کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور اس طریق کے رجال ثقہ ہیں ۔