مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ . باب: تقدیر پر ایمان رکھنا
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ جَالِسًا ، فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ : قَدَّرَ اللَّهُ كُلَّ شَيْءٍ مَا خَلَا الْأَعْمَالَ ، فَقَالَ : فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبَ غَضِبَ غَضَبًا أَشَدَّ مِنْهُ حَتَّى هَمَّ بِالْقِيَامِ ، ثُمَّ سَكَنَ ، فَقَالَ : تَكَلَّمُوا بِهِ ، أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ فِيهِمْ حَدِيثًا كَفَاهُمْ بِهِ شَرًّا ، وَيْحَهُمْ لَوْ يَعْلَمُونَ ، فَقُلْتُ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ، مَا هُوَ ؟ قَالَ : فَنَظَرَ إِلَيَّ وَقَدْ سَكَنَ بَعْضُ غَضَبِهِ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَكُونُ قَوْمٌ فِي أُمَّتِي يَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَبِالْقُرْآنِ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ كَمَا كَفَرَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى " ، قَالَ : قُلْتُ : جُعِلْتُ فِدَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَيْفَ ذَاكَ ؟ قَالَ : " يُقِرُّونَ بِبَعْضِ الْقَدَرِ وَيَكْفُرُونَ بِبَعْضِهِ " ، قَالَ : قُلْتُ : [ ثُمَّ ] مَا يَقُولُونَ ؟ قَالَ : " يَقُولُونَ : الْخَيْرُ مِنَ اللَّهِ وَالشَّرُّ مِنْ إِبْلِيسَ ، فَيُقِرُّونَ عَلَى ذَلِكَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَكْفُرُونَ بِالْقُرْآنِ بَعْدَ الْإِيمَانِ وَالْمَعْرِفَةِ ، فَمَا تَلْقَى أُمَّتِي مِنْهُمْ مِنَ الْعَدَاوَةِ وَالْبَغْضَاءِ وَالْجِدَالِ ، أُولَئِكَ زَنَادِقَةُ هَذِهِ الْأُمَّةِ فِي زَمَانِهِمْ ، يَكُونُ ظُلْمُ السُّلْطَانِ فَيَا لَهُ مِنْ ظُلْمٍ وَحَيْفٍ وَأَثَرَةٍ ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَيْهِمْ طَاعُونًا فَيُفْنِي عَامَّتَهُمْ ، ثُمَّ يَكُونُ الْخَسْفُ ، فَمَا أَقَلَّ مَنْ يَنْجُو مِنْهُمْ ، الْمُؤْمِنُ يَوْمَئِذٍ قَلِيلٌ فَرَحُهُ شَدِيدٌ غَمُّهُ ، ثُمَّ يَكُونُ الْمَسْخُ فَيَمْسَخُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَامَّةَ أُولَئِكَ قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ ، ثُمَّ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ عَلَى أَثَرِ ذَلِكَ قَرِيبًا " ، ثُمَّ بَكَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى بَكَيْنَا لِبُكَائِهِ فَقُلْنَا : مَا يُبْكِيكَ ؟ فَقَالَ : " رَحْمَةً لَهُمُ الْأَشْقِيَاءُ لِأَنَّ فِيهِمُ الْمُتَعَبِّدَ وَمِنْهُمُ الْمُتَهَجِّدَ ، وَمَعَ أَنَّهُمْ لَيْسُوا بِأَوَّلِ مَنْ سَبَقَ إِلَى هَذَا الْقَوْلِ وَضَاقَ بِحَمْلِهِ ذَرْعًا ، إِنَّ عَامَّةَ مَنْ هَلَكَ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِالتَّكْذِيبِ بِالْقَدَرِ " ، قُلْتُ : جُعِلْتُ فِدَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقُلْ لِي كَيْفَ الْإِيمَانُ بِالْقَدَرِ ؟ قَالَ : " تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَحْدَهُ ، وَأَنَّهُ لَا يَمْلِكُ مَعَهُ [ أَحَدٌ ] ضَرًّا وَلَا نَفْعًا ، وَتُؤْمِنُ بِالْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، وَتَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ خَالِقُهُمَا قَبْلَ خَلْقِ الْخَلْقِ ، ثُمَّ خَلَقَ خَلْقَهُ فَجَعَلَ مَنْ شَاءَ مِنْهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَمَنْ شَاءَ مِنْهُمْ لِلنَّارِ عَدْلًا ذَلِكَ مِنْهُ ، وَكُلٌّ يَعْمَلُ لِمَا فُرِغَ لَهُ مِنْهُ وَهُوَ صَائِرٌ لِمَا فُرِغَ مِنْهُ " ، فَقُلْتُ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ فِي أَحْسَنِهَا ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ لَيِّنُ الْحَدِيثِ . ¤عمرو بن شعیب بیان کرتے ہیں : میں سعید بن مسیب کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، انہوں نے ایک شخص کو سنا ، جو یہ کہہ رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اعمال کے علاوہ ہر چیز تقدیر میں طے کر دی ہے ، راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں نے سعید بن مسیب کو اس سے زیادہ شدید غصے میں کبھی نہیں دیکھا ، یہاں تک کہ انہوں نے یہ ارادہ کیا کہ وہ اُٹھ کر ( اس شخص کی پٹائی کریں ) پھر ان کا غصہ ذرا کم ہوا ، تو انہوں نے فرمایا : یہ لوگ اس بارے میں کلام کر رہے ہیں ، اللہ کی قسم ! میں نے ان لوگوں کے بارے میں ایک حدیث سنی ہوئی ہے جو ان کے برا ہونے کے لئے کافی ہے ، ان کا ستیاناس ہو ! کاش یہ لوگ علم رکھتے ، راوی کہتے ہیں : میں نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے ، اے ابومحمد ! وہ حدیث کیا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : انہوں نے میری طرف دیکھا ، اس دوران ان کا غصہ کچھ کم ہو گیا تھا ، پھر انہوں نے بتایا : سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت میں ایک قوم ہو گی ، جو اللہ تعالیٰ کا اور قرآن کا انکار کریں گے اور انہیں اس کا شعور بھی نہیں ہو گا ، اور وہ اس طرح کریں گے ، جس طرح یہودیوں اور عیسائیوں نے کفر کیا تھا ۔ “ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کر دے ، وہ کیسے ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ کچھ تقدیر کا اقرار کریں گے ، اور تقدیر کے کچھ حصے کا انکار کریں گے ، راوی کہتے ہیں : پھر میں نے دریافت کیا : وہ لوگ کیا کہیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ لوگ یہ کہیں گے کہ بھلائی ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور برائی ، ابلیس کی طرف سے ہے ، اور پھر وہ اس چیز کی نسبت ، اللہ تعالیٰ کی کتاب کی طرف کر دیں گے ، تو وہ ایمان لانے کے بعد اور معرفت رکھنے کے بعد ، قرآن کے منکر ہو جائیں گے ، اور پھر میری امت کو ان لوگوں کی طرف سے دشمنی ، بغض اور لڑائی کا سامنا کرنا پڑے گا ، یہ لوگ اس امت کے زندیق ہوں گے ، ان کے زمانے میں حکمرانوں کا ظلم ہو گا ، کاش ان کے لئے ظلم اور ترجیحی سلوک اور زیادتی ہوئی ، پھر اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر طاعون کو بھیجے گا ، جو ان کے زیادہ تر لوگوں کو فنا کر دے گا ، پھر انہیں زمین میں دھنسایا جائے گا ، ان میں سے تھوڑے سے لوگ ہی اس سے نجات پائیں گے ، اس زمانے میں مؤمن کی خوشی کم ہو گی اور پریشانی زیادہ ہو گی ، پھر مسخ کرنے کا عذاب ہو گا ، اللہ تعالیٰ ان کے زیادہ تر لوگوں کو مسخ کر دے گا اور وہ خنزیر اور بندر بن جائیں گے اور اس کے تھوڑے ہی عرصے بعد دجال کا خروج ہو گا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رونے لگے ، آپ کے رونے کی وجہ سے ہم بھی رونے لگے ، ہم نے عرض کی : آپ کس بات پر رو رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان لوگوں کے لئے رحمت کی وجہ سے وہ بدنصیب لوگ ہوں گے ، کیونکہ ان میں عبادت گزار بھی ہوں گے ، ان میں تہجد گزار بھی ہوں گے اور اس کے ساتھ یہ پہلے لوگ نہیں ہیں ، جو اس موقف کو اختیار کریں گے اور اس کے بارے میں آستینیں چڑھائیں گے ، بنی اسرائیل کے زیادہ تر لوگ تقدیر کو جھٹلانے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ پر فدا ہو جاؤں ، آپ مجھے بتائیے کہ تقدیر پر ایمان کیسے ہونا چاہیے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان رکھو اور اس بات پر ایمان رکھو کہ اس کے علاوہ اور کوئی بھی ، کسی قسم کا نقصان کرنے یا نفع پہنچانے کا مالک نہیں ہے ، اور تم جنت اور جہنم پر ایمان رکھو اور تم یہ بات جان لو ! کہ مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں ( یعنی جنت اور جہنم ) کو پیدا کر دیا تھا ، پھر اس نے اپنی مخلوق ( یعنی بنی نوع انسان ) کو پیدا کیا اور اُن میں سے جس کو چاہا اسے جنت کے لئے بنا دیا اور ان میں سے جس کو چاہا اسے جہنم کے لئے بنا دیا ، اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے عدل کے طور پر ہے اور ہر ایک اُس کے مطابق عمل کرے گا ، جس حوالے سے اس کی طرف سے فارغ ہوا جا چکا ہے ، اور ہر ایک شخص اس طرف جائے گا ، جس کے حوالے سے فارغ ہوا جا چکا ہے “ تو میں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے سب سے بہتر سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حدیث میں کمزور ہے ۔