حدیث نمبر: 11822
وَعَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ الْمُدْلِجِيِّ أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَعْمَلُ شَيْئًا قَدْ فُرِغَ مِنْهُ أَمْ نَسْتَأْنِفُ الْعَمَلَ ؟ قَالَ : " بَلْ لِعَمَلٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَفِيمَ الْعَمَلُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلٌّ مُيَسَّرٌ لَهُ عَمَلُهُ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْآنَ الْجِدُّ الْآنَ الْجِدُّ " ، قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم ایسی چیز کے حوالے سے عمل کرتے ہیں ؟ جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے ، یا ہم نئے سرے سے عمل کرتے ہیں ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلکہ یہ عمل ایسا ہے کہ جس کے حوالے سے فارغ ہوا جا چکا ہے ، تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر عمل کیوں کیا جائے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہر ایک کے لئے اس کے مخصوص عمل کو آسان کر دیا جاتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اب بھرپور کوشش ہو گی ، اب بھرپور کوشش ہو گی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11822
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6593)»