مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ . باب: ہر ایک کے لئے وہ چیز آسان کر دی جاتی ہے ، جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہو
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ أَعْمَالَنَا الَّتِي نَعْمَلُ أَمُؤَاخَذُونَ بِهَا عِنْدَ الْخَالِقِ ؟ خَيْرٌ فَخَيْرٌ ، وَشَرٌّ فَشَرٌّ ، أَوْ شَيْءٌ قَدْ سَبَقَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ وَجَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ ؟ قَالَ : " يَا سُرَاقَةُ ، قَدْ سَبَقَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ وَجَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ " . قَالَ : فَعَلَامَ نَعْمَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " اعْمَلْ يَا سُرَاقَةُ ، فَكُلُّ عَامِلٍ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ " . قَالَ سُرَاقَةُ : الْآنَ نَجْتَهِدُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوئے ، اُنہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے اعمال ، جو ہم کرتے ہیں ، اُن کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ کیا ان کے حوالے سے خالق کے سامنے ہمارا مواخذہ ہو گا ؟ کہ اگر اچھے عمل ہوئے ، تو اچھا انجام ہو گا اور اگر برے عمل ہوئے ، تو برا انجام ہو گا ، یا پھر یہ کوئی ایسی چیز ہے کہ جس کے بارے میں تقدیر کا حکم پہلے سے طے ہو چکا ہے ، اور قلم اس کے حوالے سے خشک ہو چکا ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے سراقہ ! اس کے بارے میں تقدیر کا حکم پہلے سے آ چکا ہے اور قلم اس کے حوالے سے خشک ہو چکا ہے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر ہم عمل کس بنیاد پر کریں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے سراقہ ! تم عمل کرو ! کیونکہ ہر عمل کرنے والے کے لئے وہ چیز آسان کر دی جاتی ہے ، جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیا ہو ، سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : پھر تو ہم بھرپور کوشش کریں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم ابوامیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔