مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ . باب: ہر ایک کے لئے وہ چیز آسان کر دی جاتی ہے ، جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہو
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَعْمَلُ فِيمَا جَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ وَجَفَّ بِهِ الْقَلَمُ أَوْ شَيْءٌ نَأْتَنِفُهُ ؟ قَالَ : " بَلْ بِمَا جَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ وَجَفَّ بِهِ الْقَلَمُ " ، قَالَ : فَفِيمَ الْعَمَلُ ؟ قَالَ : " اعْمَلْ ، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي آخِرِهِ : فَقَالَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : فَالْجِدُّ إِذًا ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم ایسی چیز کے حوالے سے عمل کرتے ہیں ؟ جس کے بارے میں تقدیر کا فیصلہ جاری ہو چکا ہے ، اور اس کے حوالے سے قلم خشک ہو چکا ہے ، یا وہ کوئی ایسا معاملہ ہے ، جسے ہم نئے سرے سے ایجاد کرتے ہیں ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ یہ اس کے مطابق ہے ، جس کے بارے میں تقدیر کا فیصلہ جاری ہو چکا ہے اور قلم اُس کے بارے میں خشک ہو چکا ہے ، اس شخص نے عرض کی : پھر عمل کیوں کیا جائے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم عمل کرو ! کیونکہ ہر شخص کے لئے وہ چیز آسان کر دی جاتی ہے ، جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیا ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، البتہ انہوں نے اس کے آخر میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” کہ حاضرین نے ایک دوسرے سے کہا: اب تو ہم بھرپور کوشش کریں گے “ امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔