حدیث نمبر: 11819
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ مَا نَعْمَلُ أَشَيْءٌ فُرِغَ مِنْهُ أَمْ شَيْءٌ مُسْتَأْنَفٌ ؟ قَالَ : " بَلْ شَيْءٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ " ، قَالَ : فَفِيمَ الْعَمَلُ ؟ قَالَ : " كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ، جو ہم عمل کرتے ہیں ، کیا وہ ایسی چیز کے حوالے سے ہے ، جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے ؟ یا وہ نئے سرے سے رونما ہونے والی کسی چیز کے حوالے سے ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلکہ وہ ایک ایسی چیز کے حوالے سے ہے ، جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے ، انہوں نے عرض کی : پھر عمل کیوں کیا جائے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہر ایک کے لئے وہ چیز آسان کر دی جاتی ہے ، جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیا ہو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11819
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2137)»