حدیث نمبر: 11818
وَعَنْ ذِي اللِّحْيَةِ الْكِلَابِيِّ أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَعْمَلُ فِي أَمْرٍ مُسْتَأْنَفٍ أَوْ فِي أَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ ؟ قَالَ : " لَا ، بَلْ فِي أَمْرٍ قَدْ فُرِعَ مِنْهُ " ، قَالَ : فَفِيمَ نَعْمَلُ إِذًا ؟ قَالَ : " [ اعْمَلُوا ] فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ ابْنُ أَحْمَدَ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ذولحیہ رضی اللہ عنہ کلابی کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم نئے سرے سے رونما ہونے والے کسی معاملے کی بنیاد پر عمل کرتے ہیں ؟ یا یہ ایسا معاملہ ہے جس سے فارغ ہو جا چکا ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ یہ ایسا معاملہ ہے ، جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے ، انہوں نے عرض کی : پھر ہم عمل کیوں کریں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم عمل کرو ! کیونکہ ہر شخص کے لئے وہ چیز آسان کر دی جاتی ہے ، جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیا ہو ۔ “
یہ روایت ابن أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11818
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4235) اخرجه احمد فى المسند (67/4)»