حدیث نمبر: 11817
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَا نَعْمَلُ أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ أَمْ شَيْءٌ نَسْتَأْنِفُهُ ؟ قَالَ : " بَلْ أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ " قَالُوا : فَكَيْفَ بِالْعَمَلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " كُلٌّ مُهَيَّأٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَحَسَّنَ إِسْنَادُهُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ عُتْبَةَ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَجَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ جو ہم عمل کرتے ہیں ، کیا اُس کے حوالے سے فارغ ہوا جا چکا ہے ، یا وہ کوئی ایسا معاملہ ہے جو نئے سرے سے رونما ہوتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ وہ ایک ایسا معاملہ ہے ، جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر عمل کیوں کیا جائے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہر شخص کے لئے وہ چیز تیار کر دی جاتی ہے ، جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیا ہو ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار نے نقل کی ہے ، ان کی سند حسن ہے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن عتبہ ہے ، جسے ابوحاتم اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11817
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2138) اخرجه احمد فى المسند (441/6)»