حدیث نمبر: 11816
وَعَنْ عُمَرَ - يَعْنِي ابْنَ الْخَطَّابِ - أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرَأَيْتَ مَا نَعْمَلُ فِيهِ أَقَدْ فُرِغَ مِنْهُ أَوْ فِي أَمْرٍ مُبْتَدَإٍ [ أَوْ أَمْرٍ مُبْتَدَعٍ ] ؟ قَالَ : " فِيمَا قَدْ فُرِغَ مِنْهُ " ، فَقَالَ عُمَرُ : أَلَا نَتَّكِلُ ؟ فَقَالَ : " اعْمَلْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ أَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَيَعْمَلُ لِلسَّعَادَةِ ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ فَيَعْمَلُ لِلشَّقَاوَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ ہم جو عمل کرتے ہیں ، کیا اس سے فارغ ہوا جا چکا ہے ؟ یا وہ نئے سرے سے پیدا ہونے والا معاملہ ہے ؟ ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ، لیکن مفہوم یہی ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ ایک ایسی چیز ہے ، جس کے حوالے سے فارغ ہوا جا چکا ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : پھر کیا ہم اُسی پر تکیہ نہ کر لیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے خطاب کے بیٹے ! تم عمل کرو ! ہر ایک کے لئے ( اس کی مخصوص چیز ) آسان کر دی جاتی ہے ، اگر وہ اہل سعادت میں سے ہو گا ، تو وہ سعادت والے عمل کرے گا اور اگر وہ اہل شقاوت میں سے ہو گا ، تو وہ شقاوت والے عمل کرے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11816
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (196)»