حدیث نمبر: 11804
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - فَقَالَ مُوسَى : يَا آدَمُ ، خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ ، وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ ، وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ ، وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ فَأَغْوَيْتَ النَّاسَ وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ ، فَقَالَ آدَمُ : يَا مُوسَى ، اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ ، وَأَنْزَلَ عَلَيْكَ التَّوْرَاةَ ، وَفَعَلَ بِكَ وَفَعَلَ ، تَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدْ قَدَّرَهُ اللَّهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي ! قَالَ : فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ مَرْفُوعًا ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا آدم علیہ السلام اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے درمیان بحث ہو گئی سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے سیدنا آدم علیہ السلام ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے دست مبارک کے ذریعے پیدا کیا ، آپ میں اپنی روح کو پھونکا ، ، اُس نے فرشتوں کو حکم دیا تو فرشتوں نے آپ کو سجدہ کیا ، اُس نے آپ کو اپنی جنت میں ٹھہرایا ، اور پھر آپ نے لوگوں کو بھٹکا دیا ، اور انہیں جنت سے نکلوا دیا ، تو سیدنا آدم علیہ السلام نے فرمایا : اے موسیٰ ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنی رسالت کے حوالے سے منتخب کیا ، تم پر تورات کو نازل کیا ، تمہارے ساتھ یہ کیا اور یہ کیا ، تم مجھے ایک ایسے معاملے کے حوالے سے ملامت کر رہے ہو ؟ جو اللہ تعالیٰ نے مجھے تخلیق کرنے سے پہلے میری تقدیر میں طے کر دیا تھا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو یوں سیدنا آدم علیہ السلام سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام بزار نے ” مرفوع “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11804
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2147) اخرجه ابو يعلى فى المسند (1204)»