حدیث نمبر: 11805
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُنَا عَلَى بَابِ الْحُجُرَاتِ ، إِذْ أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَمَعَهُمَا فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ يُجَاوِبُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا وَيَرُدُّ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ ، فَلَمَّا رَأَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَكَتُوا ، فَقَالَ : " مَا كَلَامٌ سَمِعْتُهُ آنِفًا جَاوَبَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَيَرُدُّ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ ؟ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، زَعَمَ أَبُو بَكْرٍ أَنَّ الْحَسَنَاتِ مِنَ اللَّهِ وَالسَّيِّئَاتِ مِنَ الْعِبَادِ ، وَقَالَ عُمَرُ : الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ مِنَ اللَّهِ ، فَتَابَعَ هَذَا قَوْمٌ وَهَذَا قَوْمٌ ، فَأَجَابَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا وَرَدَّ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ ، فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ : " كَيْفَ قُلْتَ ؟ " ، قَالَ قَوْلَهُ الْأَوَّلَ ، وَالْتَفَتَ إِلَى عُمَرَ ، فَقَالَ قَوْلَهُ الْأَوَّلَ ، فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمْ بِقَضَاءِ إِسْرَافِيلَ بَيْنَ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ ، فَهُمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ أَوَّلُ خَلْقِ اللَّهِ تَكَلَّمَ فِيهِ ، فَقَالَ مِيكَائِيلُ بِقَوْلِ أَبِي بَكْرٍ ، وَقَالَ جِبْرِيلُ بِقَوْلِ عُمَرَ ، فَقَالَ جِبْرِيلُ لِمِيكَائِيلَ : إِنَّا مَتَى يَخْتَلِفْ أَهْلُ السَّمَاءِ يَخْتَلِفْ أَهْلُ الْأَرْضِ فَلْنَتَحَاكَمْ إِلَى إِسْرَافِيلَ ، فَتَحَاكَمَا إِلَيْهِ فَقَضَى بَيْنَهُمَا بِحَقِيقَةِ الْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ حُلْوِهِ وَمُرِّهِ ، كُلُّهُ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَنَا قَاضٍ بَيْنَكُمَا " ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ ، إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَوْ أَرَادَ أَنْ لَا يُعْصَى لَمْ يَخْلُقْ إِبْلِيسَ " ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ عُمَرُ بْنُ الصُّبْحِ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا ، وَشَيْخُ الْبَزَّارِ السَّكَنُ بْنُ سَعِيدٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ ، قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي مَوَاضِعِهَا مِنْ هَذَا النَّحْوِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حجروں کے دروازے کے پاس ہمارے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، اسی دوران سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آ گئے ، ان کے ساتھ کچھ لوگ آ گئے ، جو ایک دوسرے کے ساتھ بحث کر رہے تھے ، جب ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو خاموش ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ کلام کیا تھا ؟ جو میں ابھی سن رہا تھا ، جو تم ایک دوسرے کے ساتھ بحث مباحثہ کر رہے تھے ، اور ایک دوسرے کو جواب دے رہے تھے ، تو ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا ہے کہ نیکیاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہیں اور برائیاں بندوں کی طرف سے ہوتی ہیں ، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا تھا کہ نیکیاں اور برائیاں ( دونوں ہی ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہوتی ہیں ، تو کچھ لوگ ان کی پیروی کر رہے تھے اور کچھ لوگ ان کی پیروی کر رہے تھے اور وہ ایک دوسرے کو جواب دے رہے تھے ، اور ایک دوسرے کی بات مسترد کر رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر دریافت کیا : تم کیا کہتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : وہی بات جو پہلے کی گئی ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے ، تو انہوں نے بھی وہی بات بیان کی ، جو پہلے بیان ہو چکی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، میں تمہارے درمیان وہی فیصلہ دوں گا ، جو سیدنا اسرافیل علیہ السلام نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام اور سیدنا میکائیل علیہ السلام کے درمیان دیا تھا ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، یہ دونوں فرشتے اللہ کی مخلوق میں پہلے لوگ تھے ، جنہوں نے اس مسئلے کے بارے میں کلام کیا ، سیدنا میکائیل علیہ السلام کی رائے وہی تھی ، جو ابوبکر کی رائے ہے ، اور سیدنا جبرائیل علیہ السلام کی رائے وہی تھی ، جو عمر کی رائے ہے ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے سیدنا میکائیل علیہ السلام سے کہا: اگر ہم آسمان والے اختلاف کریں گے ، تو زمین والے بھی اختلاف کریں گے ، تو ہم اسرافیل علیہ السلام کو ثالث بنا لیتے ہیں ، پھر ان دونوں نے سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو ثالث بنایا ، تو سیدنا اسرافیل علیہ السلام نے ان دونوں کے درمیان یہ فیصلہ دیا ، جو تقدیر کی حقیقت کے بارے میں تھا کہ وہ اچھی ہو یا بری ہو ، میٹھی ہو یا کڑوی ہو ، ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اور میں بھی تم لوگوں کے درمیان یہی فیصلہ دیتا ہوں ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : اے ابوبکر ! اگر اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا کہ اُس کی نافرمانی نہ کی جائے ، تو اُس نے ابلیس کو پیدا ہی نہیں کرنا تھا ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ اُن کے نقل کردہ ہیں ، امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عمر بن صبیح ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ، امام بزار کے استاد سکن بن سعید ہیں ، میں ان سے واقف نہیں ہوں ، امام بزار کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور ان کے بعض رجال کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی دیگر احادیث ان کے مخصوص مقامات پر آئیں گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11805
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2153)»