مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابٌ : جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا هُوَ كَائِنٌ . باب: جو کچھ ہونا ہے ، اس کے حوالے سے ( تقدیر کا ) قلم خشک ہو چکا ہے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَوَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْقَدَرِ فَوَجَأْتُ رَأْسَهُ ، قَالُوا : وَلِمَ ذَاكَ ؟ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ لَوْحًا مَحْفُوظًا مِنْ دُرَّةٍ بَيْضَاءَ ، دَفَّتَاهُ يَاقُوتَةٌ حَمْرَاءُ ، قَلَمُهُ نُورٌ [ وَكِتَابُهُ نُورٌ ] ، وَعَرْضُهُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، يَنْظُرُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ سِتِّينَ وَثَلَاثَمِائَةِ نَظْرَةٍ ، يَخْلُقُ بِكُلِّ نَظْرَةٍ ، وَيُحْيِي ، وَيُمِيتُ ، وَيُعِزُّ ، وَيُذِلُّ ، وَيَفْعَلُ مَا يَشَاءُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ ، وَرِجَالُ هَذِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میری یہ خواہش تھی کہ اگر قدریہ فرقے کا کوئی شخص میرے پاس ہوتا ، تو میں اُس کے سر کو تکلیف پہنچاتا ( یعنی اس کی پٹائی کرتا ) لوگوں نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ انہوں نے فرمایا : اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سفید موتی سے لوح محفوظ کو پیدا کیا ہے ، جس کے دونوں کنارے سرخ یاقوت کے ہیں ، اس کا قلم نور ہے اور اس کی کتاب نور ہے اور وہ اتنا بڑا ہے ، جتنا آسمان اور زمین کے درمیان فاصلہ ہے ، پروردگار روزانہ تین سو ساٹھ مرتبہ اس کی طرف نظر کرتا ہے اور ہر نظر میں کوئی چیز تخلیق کرتا ہے ، کسی کو زندگی دیتا ہے کسی کو موت دیتا ہے کسی کو عزت دیتا ہے کسی کو ذلت دیتا ہے ، اور جو وہ چاہتا ہے ، وہ کرتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔