حدیث نمبر: 11798
وَعَنْ حِبَّانَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زُهَيْرٍ أَبِي زُهَيْرٍ الْبَصْرِيِّ قَالَ : سَأَلْتُ الضَّحَّاكَ بْنَ مُزَاحِمٍ عَنْ قَوْلِهِ : مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ ، وَعَنْ قَوْلِهِ : إِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ، وَعَنْ قَوْلِهِ : إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ ، فَقَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّ اللَّهَ - جَلَّ ذِكْرُهُ - خَلَقَ الْعَرْشَ فَاسْتَوَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ خَلَقَ الْقَلَمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَجْرِيَ بِإِذْنِهِ ، وَعَظُمَ الْقَلَمُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، فَقَالَ الْقَلَمُ : بِمَا يَا رَبِّ أَجْرِي ؟ قَالَ : بِمَا أَنَا خَالِقٌ وَكَائِنٌ فِي خَلْقِي مِنْ قَطْرٍ ، أَوْ نَبَاتٍ ، أَوْ نَفْسٍ ، أَوْ أَثَرٍ - يَعْنِي بِهِ الْعَمَلَ - أَوْ رِزْقٍ ، أَوْ أَجَلٍ ، فَجَرَى الْقَلَمُ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، فَأَثْبَتَهُ اللَّهُ فِي الْكِتَابِ الْمَكْنُونِ عِنْدَهُ تَحْتَ الْعَرْشِ . ¤ وَأَمَّا قَوْلُهُ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ فَإِنَّ اللَّهَ وَكَّلَ مَلَائِكَةً يَنْسَخُونَ مِنْ ذَلِكَ الْكِتَابِ كُلَّ الْعَامِ فِي رَمَضَانَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ مَا يَكُونُ فِي الْأَرْضِ مِنْ حَدَثٍ إِلَى مِثْلِهَا مِنَ السَّنَةِ الْمُقْبِلَةِ ، فَيُعَارِضُونَ بِهِ حَفَظَةَ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ عَشِيَّةَ كُلِّ خَمِيسٍ ، فَيَجِدُونَ مَا رَفَعَ الْحَفَظَةُ مُوَافِقًا لِمَا فِي كِتَابِهِمْ ذَلِكَ لَيْسَ فِيهِ زِيَادَةٌ وَلَا نُقْصَانٌ ، وَقَوْلُهُ إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ لِكُلِّ شَيْءٍ مَا يُشَاكِلُهُ مِنْ خَلْقِهِ وَمَا يُصْلِحُهُ مِنْ رِزْقِهِ ، وَخَلَقَ الْبَعِيرَ خَلْقًا لَا يَصْلُحُ شَيْءٌ مِنْ خَلْقِهِ عَلَى غَيْرِهِ مِنَ الدَّوَابِّ ، وَكَذَلِكَ كُلُّ شَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ ، وَخَلَقَ لِدَوَابِّ الْبَرِّ وَطَيْرِهَا مِنَ الرِّزْقِ مَا يُصْلِحُهَا فِي الْبَرِّ ، وَخَلَقَ لِدَوَابِّ الْبَحْرِ وَطَيْرِهَا مَا يُصْلِحُهَا فِي الْبَحْرِ ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ - تَعَالَى - إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الضَّحَّاكُ ، ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ : لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین

حبان بن عبیداللہ بن زہیر ابوزہیر بصری بیان کرتے ہیں : میں نے ضحاک بن مزاحم سے ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا : ” زمین میں ، یا تمہارے وجودوں میں ، جو بھی مصیبت لاحق ہوتی ہے ، تو وہ پہلے سے اس کتاب ( یعنی لوح محفوظ ) میں طے شدہ ہے ( اس سے پہلے کہ ) ہم اس کو ( عملی طور پر ) پیدا کریں ، بے شک یہ اللہ تعالیٰ کے لئے آسان ہے ۔ “ اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا : ” تم لوگ جو عمل کرتے تھے ، ہم اُسے نقل کر رہے تھے ۔ “ اور اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا : ” بے شک ہم نے ہر چیز کو تقدیر کے مطابق پیدا کیا ہے ۔ “ تو ضحاک نے جواب دیا : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ بات بیان کی ہے : اللہ تعالیٰ نے عرش کو پیدا کیا ، پھر اس پر استواء کیا ، پھر اُس نے قلم کو پیدا کیا اور اُسے یہ حکم دیا کہ وہ اس کے علم کے تحت جاری ہو ، تو قلم اتنا بڑا ہے ، جتنا آسمان اور زمین کے درمیان فاصلہ ہے ، اس نے دریافت کیا : اے پروردگار ! کس چیز کے لئے جاری ہو جاؤں ؟ تو پروردگار نے فرمایا : اس چیز کے حوالے سے کہ میں خالق ہوں اور میں نے اپنی مخلوق میں جو کچھ کرنا ہے ، خواہ اس کا تعلق بارش سے ہو ، یا نباتات سے ہو ، یا جانوں سے ہو یا اعمال سے ہو ، یا رزق سے ہو ، یا موت سے ہو ، تو قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے ، قلم اُس کے لئے جاری ہو گیا ، اللہ تعالیٰ نے عرش کے نیچے اپنے پاس موجود ایک پوشیدہ تحریر میں اُسے برقرار رکھا ۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا تعلق ہے : تم لوگ جو عمل کرتے تھے ہم اسے نقل کر رہے تھے ۔ “ تو اللہ تعالیٰ نے کچھ فرشتے مقرر کیے ہیں ، جو اس کتاب میں سے ہر سال رمضان کے مہینے میں شب قدر میں نقل کرتے ہیں ، جو کچھ بھی زمین پر ہونا ہے ، اس وقت سے لے کر اگلے سال کے اُسی وقت تک جو کچھ ہونا ہے ، اس کو نوٹ کرتے ہیں اور پھر وہ اس کے ذریعے بندوں پر مقرر ، اللہ تعالیٰ کے محافظ فرشتوں کو ہر جمعرات کی شام ملتے ہیں ، تو وہ یہ پاتے ہیں کہ محافظ فرشتوں نے جو کچھ اوپر لے جانا ہے ، وہ اس چیز کے مطابق ہے ، جو ان کے پاس موجود تحریر میں ہے ، اس میں کوئی کمی یا کوئی اضافہ نہیں ہوتا ۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا تعلق ہے : ” بے شک ہم نے ہر چیز کو تقدیر کے مطابق پیدا کیا ہے ۔ “ تو بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے ، مخلوق میں کوئی بھی چیز اس کی ہم شکل نہیں ہے اور پھر اس ( چیز ) کے لئے جو رزق مناسب تھا ، اُس کو طے کیا ہے ، اس نے اونٹ کو اس طرح سے پیدا کیا ہے کہ اس کی مخلوق میں سے دوسرے جانوروں میں سے وہ چیز نہیں ہے ، اسی طرح جس بھی چیز کو اس نے پیدا کیا ہے ، اس کی یہی صورت حال ہے ، اس نے خشکی کے جانور اور پرندوں کے لئے مخصوص رزق مقرر کیا ہے ، جو خشکی کے حساب سے ان کے لئے مناسب ہے ، اس نے سمندر کے جانوروں اور پرندوں کے لئے ان کے لئے سمندر میں ، جو چیز بہتر ہے ، وہ چیز پیدا کی ہے ، تو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ” بے شک ہم نے ہر چیز کو تقدیر کے مطابق پیدا کیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضحاک ہے ، جسے ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ، وہ فرماتے ہیں : اس نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11798
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10595)»