مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابٌ : جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا هُوَ كَائِنٌ . باب: جو کچھ ہونا ہے ، اس کے حوالے سے ( تقدیر کا ) قلم خشک ہو چکا ہے
حدیث نمبر: 11800
وَعَنْ مَرْثَدٍ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : خَطَّ اللَّهُ خَطَّيْنِ فِي كِتَابِهِ ، ثُمَّ رَفَعَ الْقَلَمَ فَكَتَبَ فِي أَحَدِهِمَا الْخَلْقَ ، وَكَتَبَ فِي الْآخَرِ مَا الْخَلْقُ عَامِلُونَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى الْخُشَنِيُّ ، وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤محمد محی الدین
سیدنا مرثد رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک ہیں ، وہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے اپنی تحریر میں دو قسم کی لکیریں لگائیں پھر اس نے قلم اٹھا لیا ، ان دونوں میں سے ایک میں اس نے مخلوق کو تحریر کیا اور دوسری سطر میں وہ تحریر کیا جو مخلوق نے عمل کرنے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن یحیی خشنی ہے ، جسے دحیم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔