مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا سَبَقَ مِنَ اللَّهِ - سُبْحَانَهُ - فِي عِبَادِهِ وَبَيَانِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ . باب: اللہ تعالیٰ کی طرف سے ، اپنے بندوں کے بارے میں ، جو پہلے سے طے ہو چکا ہے اس کا بیان اور اہل جنت اور اہل جہنم کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ غَضْبَانُ ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ : " لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ الْيَوْمَ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ " . وَنَحْنُ نَرَى أَنَّ جِبْرِيلَ مَعَهُ . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا حَدِيثِي عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ ، فَلَا تُبْدِ عَلَيْنَا سَوْآتِنَا ، فَاعْفُ عَفَا اللَّهُ عَنْكَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے کے عالم میں تشریف لائے ، آپ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : آج تم لوگ جس چیز کے بارے میں دریافت کرو گے ، میں تمہیں اس کے بارے میں بتا دوں گا ، راوی کہتے ہیں : ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے ساتھ ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اُس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم ایسے لوگ ہیں ، جو زمانہ جاہلیت کے قریب ہیں ، تو آپ ہماری خرابیاں ہمارے سامنے ظاہر نہ کریں ، انہوں نے عرض کی : کیا آپ ہمارے پوشیدہ معاملات کے حوالے سے ہمیں رسوائی کا شکار کریں گے ؟ آپ درگزر سے کام لیں ، اللہ تعالیٰ آپ سے درگزر کرے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔