مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا سَبَقَ مِنَ اللَّهِ - سُبْحَانَهُ - فِي عِبَادِهِ وَبَيَانِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ . باب: اللہ تعالیٰ کی طرف سے ، اپنے بندوں کے بارے میں ، جو پہلے سے طے ہو چکا ہے اس کا بیان اور اہل جنت اور اہل جہنم کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَزَالُ هَذَا الْحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ آمِنِينَ حَتَّى يَرُدُّوهُمْ عَنْ دِينِهِمْ كِفَاءَ رَحِمِنَا " ، قَالَ : فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفِي الْجَنَّةِ أَنَا أَمْ فِي النَّارِ ؟ قَالَ : " فِي الْجَنَّةِ " ، قَالَ : ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ آخَرُ فَقَالَ : أَفِي الْجَنَّةِ أَنَا أَمْ فِي النَّارِ ؟ قَالَ : " فِي النَّارِ " ، ثُمَّ قَالَ : " اسْكُتُوا عَنِّي مَا سَكَتُّ عَنْكُمْ ، فَلَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَعُوا لَأَخْبَرْتُكُمْ بِمَلَئِكُمْ مِنْ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى تَعْرِفُوهُمْ عِنْدَ الْمَوْتِ ، وَلَوْ أُمِرْتُ أَنْ أَفْعَلَ لَفَعَلْتُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اس قبیلے قریش کے لوگ مسلسل امن کی حالت میں رہیں گے ، یہاں تک کہ ان لوگوں کو ان کے دین سے وہ لوگ موڑ دیں گے جو ہمارے برابر کے رشتہ دار ہوں گے ، راوی کہتے ہیں : ایک صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں جنت میں جاؤں گا یا جہنم میں جاؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جنت میں جاؤ گے ، راوی کہتے ہیں : پھر دوسرے صاحب آپ کے سامنے کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : کیا میں جنت میں جاؤں گا یا جہنم میں جاؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جہنم میں جاؤ گے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تک میں تمہیں کوئی بات بیان نہ کروں ، تم بھی میرے حوالے سے خاموش رہو ، اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ تم لوگ ایک دوسرے کو دفن کرنا چھوڑ دو گے ، تو میں تمہیں اہل جہنم کی مخصوص نشانی بتاتا ، یہاں تک کہ موت کے وقت تم اُن لوگوں کو پہچان لیتے اور اگر مجھے حکم دیا گیا کہ میں ایسا کروں ، تو میں ایسا کر لوں گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔