مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا سَبَقَ مِنَ اللَّهِ - سُبْحَانَهُ - فِي عِبَادِهِ وَبَيَانِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ . باب: اللہ تعالیٰ کی طرف سے ، اپنے بندوں کے بارے میں ، جو پہلے سے طے ہو چکا ہے اس کا بیان اور اہل جنت اور اہل جہنم کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - خَلَقَ الْجَنَّةَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا بِعَشَائِرِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ ، وَخَلَقَ النَّارَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا بِعَشَائِرِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَفِيمَ الْعَمَلُ ؟ قَالَ : " اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بَكَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ السِّيرِينِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَعَبَّادُ بْنُ عَلِيٍّ السِّيرِينِيُّ ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ ، قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ نَحْوَ هَذَا فِي بَابِ كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا ہے اور اس کے لئے اہل ، افراد کو پیدا کیا ہے ، جس میں اُن کے خاندانوں اور ان کے ( قبائل کا بھی تعین کیا گیا ہے ) ان لوگوں میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا اور ان میں کوئی کمی نہیں ہو گی ، اُس نے جہنم کو پیدا کیا ہے اور اس کے لئے اہل افراد پیدا کئے ہیں ، جو ان کے خاندان اور قبائل ( کے نام کے ساتھ متعین ہیں ) ان میں سے کوئی اضافہ نہیں ہو گا اور ان میں کوئی کمی نہیں ہو گی ، ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر عمل کیوں کیا جائے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم عمل کرو ! کیونکہ ہر ایک کے لئے وہ چیز آسان کر دی جاتی ہے ، جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بکار بن محمد سیرینی ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، عباد بن علی سیرینی کو ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی احادیث اس باب میں آئیں گی ، جس میں یہ مذکور ہے کہ ہر ایک کے لئے وہ چیز آسان کر دی جاتی ہے ، جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیا ہو ۔