مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا سَبَقَ مِنَ اللَّهِ - سُبْحَانَهُ - فِي عِبَادِهِ وَبَيَانِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ . باب: اللہ تعالیٰ کی طرف سے ، اپنے بندوں کے بارے میں ، جو پہلے سے طے ہو چکا ہے اس کا بیان اور اہل جنت اور اہل جہنم کا بیان
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ وَفِي يَدِهِ صَحِيفَتَانِ يَنْظُرُ فِيهِمَا ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ : وَاللَّهِ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَأُمِّيٌّ مَا يَقْرَأُ وَمَا يَكْتُبُ ، حَتَّى دَنَا مِنْهُمْ ، فَنَشَرَ الَّتِي فِي يَمِينِهِ فَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، هَذَا كِتَابٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ بِأَسْمَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ وَعَشَائِرِهِمْ ، مُجْمَلٌ عَلَيْهِمْ ، لَا يُزَادُ فِي آخِرِهِ شَيْءٌ فَرَغَ رَبُّكُمْ " ، ثُمَّ نَشَرَ الَّتِي فِي يَدِهِ الْأُخْرَى لِأَهْلِ النَّارِ مِثْلَ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْهُذَيْلُ بْنُ بِلَالٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ کے دونوں ہاتھوں میں دو صحیفے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی طرف دیکھا اور اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! اللہ کا نبی ، اُمّی ہے ، وہ نہ پڑھتا ہے اور نہ لکھتا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے قریب ہوئے ، آپ نے اپنے ہاتھ میں موجود چیز کو پھیلایا اور فرمایا ( اس میں یہ تحریر ہے : ) ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان ، نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ رحمان و رحیم کی طرف سے تحریر ہے ، اس میں اہل جنت کے ، اُن کے آباؤ اجداد اور ان کے خاندانوں کے نام ہیں ، یہ ان کے بارے میں متعین ہے ، اس کے آخر میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا ، یہ ایک ایسی چیز ہے ، جس کے حوالے سے تمہارا پروردگار فارغ ہو چکا ہے ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے ہاتھ میں موجود چیز کے بارے میں اہل جہنم کے لئے بھی اس کی مانند کلمات ارشاد فرمائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہذیل بن بلال ہے اور وہ ضعیف ہے ۔