حدیث نمبر: 11788
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَسَطَ يَمِينَهُ ، ثُمَّ قَبَضَهَا ، ثُمَّ قَالَ : " أَهْلُ الْجَنَّةِ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " ، وَبَسَطَ يَسَارَهُ ، ثُمَّ قَبَضَهَا فَقَالَ : " أَهْلُ النَّارِ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَقَدْ يُسْلَكُ بِأَهْلِ السَّعَادَةِ طَرِيقُ الشَّقَاءِ حَتَّى يُقَالَ مِنْهُمْ بَلْ هُمْ هُمْ ، فَتُدْرِكُهُمُ السَّعَادَةُ فَتُخْرِجُهُمْ مِنْ طَرِيقِ الشَّقَاءِ ، وَقَدْ يُسْلَكُ بِأَهْلِ الشَّقَاءِ طَرِيقُ السَّعَادَةِ حَتَّى يُقَالَ مِنْهُمْ بَلْ هُمْ هُمْ فَيُدْرِكُهُمُ الشَّقَاءُ فَيُخْرِجُهُمْ مِنْ طَرِيقِ السَّعَادَةِ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَيُّوبَ السَّكُونِيُّ رَوَى حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا ، فَقَالَ الْعُقَيْلِيُّ فِيهِ : لَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ ، فَضَعَّفَهُ الذَّهَبِيُّ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهِ ، لَكِنْ فِي إِسْنَادِهِ بَقِيَّةُ ، وَهُوَ مُتَكَلَّمٌ فِيهِ بِغَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبدالله بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ، اپنا دایاں ہاتھ پھیلایا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مٹھی کو بند کیا اور ارشاد فرمایا : ” اس میں اہل جنت کے نام اُن کے آباؤ اجداد ، ان کے قبیلوں کے نام ہیں ، ان میں قیامت کے دن تک کوئی اضافہ نہیں ہو گا اور کوئی کمی نہیں ہو گی ، پھر آپ نے اپنا بایاں ہاتھ پھیلایا ، پھر آپ نے اسے بند کیا اور فرمایا : یہ اہل جہنم کے نام ہیں ، ان کے آباؤ اجداد کے نام ہیں ، ان کے قبیلوں کے نام ہیں ، قیامت کے دن تک ان میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا اور کوئی کمی نہیں ہو گی ، سعادت والے ( کچھ ) لوگوں کو بدنصیب لوگوں کے راستے پر چلایا جاتا ہے ، یہاں تک کہ یہ کہا: جاتا ہے : یہ ان ( بدنصیب لوگوں ) میں سے ایک ہے ، حالانکہ وہ ان ( دوسروں یعنی خوش نصیب لوگوں ) میں سے ہوتے ہیں ، پھر انہیں سعادت لاحق ہو جاتی ہے اور وہ انہیں بدنصیبی کے راستے سے نکال دیتی ہے ، اسی طرح بدنصیب لوگوں سے تعلق رکھنے والا ایک شخص کو سعادت کے راستے پر چلایا جاتا ہے ، یہاں تک کہ یہ کہا: جاتا ہے : یہ ان ( یعنی خوش نصیب لوگوں ) میں سے ہے ، لیکن وہ اُن دوسروں ( یعنی بدنصیب لوگوں ) میں سے ہوتا ہے ، بدنصیبی اسے لاحق ہوتی ہے اور اُسے سعادت کے راستے سے نکال دیتی ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر ایک کے لئے وہ چیز آسان ہو جاتی ہے ، جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ایوب سکونی ہے ، اس نے اس کے علاوہ بھی روایات نقل کی ہیں ، اس کے بارے میں عقیلی نے کہا: ہے : اس کی نقل کردہ حدیث کی متابعت نہیں کی گئی ہے ، امام ذہبی نے اپنی طرف سے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے اور اس کے بارے میں اس حدیث کے علاوہ بھی کلام کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11788
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف