مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا سَبَقَ مِنَ اللَّهِ - سُبْحَانَهُ - فِي عِبَادِهِ وَبَيَانِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ . باب: اللہ تعالیٰ کی طرف سے ، اپنے بندوں کے بارے میں ، جو پہلے سے طے ہو چکا ہے اس کا بیان اور اہل جنت اور اہل جہنم کا بیان
حدیث نمبر: 11786
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ - وَكَانَ قَلِيلَ الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ - جَلَّ وَعَزَّ - أَخْرَجَ ذُرِّيَّةَ آدَمَ مِنْ صُلْبِهِ حَتَّى مَلَئُوا الْأَرْضَ وَكَانُوا هَكَذَا " وَضَمَّ جَعْفَرٌ يَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کم احادیث نقل کرتے ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کی ذریت کو اُن کی پشت سے نکالا ، یہاں تک کہ اُن لوگوں نے زمین کو بھر دیا ، اور وہ لوگ اس طرح تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ یہاں جعفر نامی راوی نے اپنے دونوں ہاتھوں میں سے ایک کو دوسرے کے ساتھ ملا لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے اور وہ متروک ہے ۔