مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا سَبَقَ مِنَ اللَّهِ - سُبْحَانَهُ - فِي عِبَادِهِ وَبَيَانِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ . باب: اللہ تعالیٰ کی طرف سے ، اپنے بندوں کے بارے میں ، جو پہلے سے طے ہو چکا ہے اس کا بیان اور اہل جنت اور اہل جہنم کا بیان
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : لَمَّا أَنْ حَضَرَهُ الْمَوْتُ بَكَى ، فَقَالَ لَهُ : مَا يُبْكِيكَ ؟ فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا أَبْكِي جَزَعًا مِنَ الْمَوْتِ وَلَا دُنْيَا أُخَلِّفُهَا بَعْدِي ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّمَا هُمَا قَبْضَتَانِ ، فَقَبْضَةٌ فِي النَّارِ وَقَبْضَةٌ فِي الْجَنَّةِ " ، وَلَا أَدْرِي فِي أَيِّ الْقَبْضَتَيْنِ أَكُونُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْبَرَاءُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْغَنَوِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَالْحَسَنُ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا . ¤سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : جب اُن کی موت کا وقت قریب آیا ، تو وہ رونے لگے ، ان کے ساتھی نے ان سے کہا: آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں موت کی گھبراہٹ کی وجہ سے نہیں رو رہا ہوں اور نہ ہی دنیا کو اپنے پیچھے چھوڑنے کی وجہ سے رو رہا ہوں ، لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اس کی دو مٹھیاں تھیں ، ایک مٹھی ( کے لوگوں ) نے جہنم میں جانا ہے اور ایک ( یعنی دوسری ) مٹھی ( کے لوگوں ) نے جنت میں جانا ہے ۔ “ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اب مجھے نہیں معلوم کہ میں اُن دونوں میں سے کون سی مٹھی میں ہوؤں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی براء بن عبداللہ غنوی ہے اور وہ ضعیف ہے اور حسن نامی راوی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔