مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا سَبَقَ مِنَ اللَّهِ - سُبْحَانَهُ - فِي عِبَادِهِ وَبَيَانِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ . باب: اللہ تعالیٰ کی طرف سے ، اپنے بندوں کے بارے میں ، جو پہلے سے طے ہو چکا ہے اس کا بیان اور اہل جنت اور اہل جہنم کا بیان
وَعَنْ هِشَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَبْتَدِئُ الْأَعْمَالَ أَمْ قَدْ قُضِيَ الْقَضَاءُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَخَذَ ذُرِّيَّةَ آدَمَ مِنْ ظَهْرِهِ ، ثُمَّ أَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ ، ثُمَّ نَثَرَهُمْ فِي كَفَّيْهِ أَوْ كَفِّهِ ، فَقَالَ : هَؤُلَاءِ فِي الْجَنَّةِ وَهَؤُلَاءِ فِي النَّارِ ، فَأَمَّا أَهْلُ الْجَنَّةِ فَمُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَأَهْلُ النَّارِ مُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَيَحْسُنُ حَدِيثُهُ بِكَثْرَةِ الشَّوَاهِدِ ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ حَسَنٌ . ¤سیدنا ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم نئے سرے سے اعمال کرتے ہیں ؟ یا یہ طے شدہ تقدیر کے مطابق ہیں ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کی پشت میں سے اُن کی اولاد کو نکالا اور پھر انہیں اپنی ذات کے بارے میں گواہ بنایا اور پھر انہیں اپنے دونوں ہاتھوں میں رکھا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اپنی ہتھیلی پر رکھا اور فرمایا : یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور یہ ( دوسرے ) لوگ جہنم میں جائیں گے ، جہاں تک اہل جنت کا تعلق ہے ، تو ان کے لئے اہل جنت کے عمل کو آسان کر دیا جائے گا ، اور جہاں تک اہل جہنم کا تعلق ہے ، تو ان کے لئے اہل جہنم کے عمل کو آسان کر دیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث کو شواہد کی کثرت کی وجہ سے حسن قرار دیا گیا ہے اور امام طبرانی کی سند حسن ہے ۔