مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا سَبَقَ مِنَ اللَّهِ - سُبْحَانَهُ - فِي عِبَادِهِ وَبَيَانِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ . باب: اللہ تعالیٰ کی طرف سے ، اپنے بندوں کے بارے میں ، جو پہلے سے طے ہو چکا ہے اس کا بیان اور اہل جنت اور اہل جہنم کا بیان
حدیث نمبر: 11783
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ فِي الْقَبْضَتَيْنِ : " هَؤُلَاءِ لِهَذِهِ وَهَؤُلَاءِ لِهَذِهِ " ، قَالَ : فَتَفَرَّقَ النَّاسُ وَهُمْ لَا يَخْتَلِفُونَ فِي الْقَدَرِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ نے دو مٹھیوں کے بارے میں یہ فرمایا ہے : یہ لوگ اس ( یعنی جنت ) کے لئے ہیں اور یہ لوگ اس ( یعنی جہنم ) کے لئے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو لوگ متفرق قسم کے ہو گئے اور تقدیر کے حکم کے حساب سے اُن میں اختلاف نہیں ہوا ( یعنی ہر ایک مخصوص قسم سے تعلق رکھتا ہے ) ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔