مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا سَبَقَ مِنَ اللَّهِ - سُبْحَانَهُ - فِي عِبَادِهِ وَبَيَانِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ . باب: اللہ تعالیٰ کی طرف سے ، اپنے بندوں کے بارے میں ، جو پہلے سے طے ہو چکا ہے اس کا بیان اور اہل جنت اور اہل جہنم کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ قَبَضَ قَبْضَةً فَقَالَ : لِلْجَنَّةِ بِرَحْمَتِي ، وَقَبَضَ قَبْضَةً وَقَالَ : لِلنَّارِ وَلَا أُبَالِي " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ سِنَانٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : عِنْدَهُ وَهْمٌ كَثِيرٌ ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ ، وَمَحَلُّهُ الصِّدْقُ ، يُكْتَبُ حَدِيثُهُ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے مٹھی میں ( بنی نوع انسان ) کو لیا اور فرمایا : یہ میری رحمت ، جنت کے لئے ہیں ، پھر ایک اور مٹھی میں ( دوسرے لوگوں کو ) لیا اور فرمایا : یہ جہنم کے لئے ہیں ، اور میں کوئی پرواہ نہیں کرتا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن سنان باہلی ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : اسے بہت زیادہ وہم لاحق ہوتا ہے ، یہ قوی نہیں ہے ، تاہم اس کا محل صدق ہے ، اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔