مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا سَبَقَ مِنَ اللَّهِ - سُبْحَانَهُ - فِي عِبَادِهِ وَبَيَانِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ . باب: اللہ تعالیٰ کی طرف سے ، اپنے بندوں کے بارے میں ، جو پہلے سے طے ہو چکا ہے اس کا بیان اور اہل جنت اور اہل جہنم کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَتَادَةَ السُّلَمِيِّ أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - خَلَقَ آدَمَ ، ثُمَّ أَخَذَ الْخَلْقَ مِنْ ظَهْرِهِ ، فَقَالَ : هَؤُلَاءِ فِي الْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِي ، وَهَؤُلَاءِ فِي النَّارِ وَلَا أُبَالِي " ، فَقَالَ قَائِلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَعَلَى مَاذَا نَعْمَلُ ؟ قَالَ : " عَلَى مَوَاقِعِ الْقَدَرِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبدالرحمن بن قتادہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور پھر ان کی پشت سے مخلوق ( یعنی بنی نوع انسان ) کو لیا اور فرمایا : یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے اور یہ ( دوسرے ) لوگ جہنم میں جائیں گے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ “ ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر ہم کس بنیاد پر عمل کریں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تقدیر ( کے حکم ) کے واقع ہونے کی صورت ( کے مطابق تم عمل کرو ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔