مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا سَبَقَ مِنَ اللَّهِ - سُبْحَانَهُ - فِي عِبَادِهِ وَبَيَانِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ . باب: اللہ تعالیٰ کی طرف سے ، اپنے بندوں کے بارے میں ، جو پہلے سے طے ہو چکا ہے اس کا بیان اور اہل جنت اور اہل جہنم کا بیان
وَعَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَمَّا خَلَقَ آدَمَ قَبَضَ مِنْ طِينَتِهِ قَبْضَتَيْنِ ، قَبْضَةً بِيَمِينِهِ وَقَبْضَةً بِالْيَدِ الْأُخْرَى ، فَقَالَ لِلَّذِي بِيَمِينِهِ : هَؤُلَاءِ إِلَى الْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِي ، وَقَالَ لِلَّذِي فِي يَدِهِ الْأُخْرَى : هَؤُلَاءِ إِلَى النَّارِ وَلَا أُبَالِي ، ثُمَّ رَدَّهُمْ فِي صُلْبِ آدَمَ فَهُمْ يَتَنَاسَلُونَ عَلَى ذَلِكَ إِلَى الْآنِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ رَوْحُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ ابْنُ مَعِينٍ : صُوَيْلِحٌ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ . ¤سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا ، تو اُن کی مٹی کو مٹھی میں لیا ، اُسے دو مٹھیوں میں لیا ، دائیں مٹھی میں کچھ کو لیا اور بائیں میں کچھ کو لیا ، دائیں مٹھی والے لوگوں کے بارے میں اس نے فرمایا : یہ جنت میں جائیں گے اور میں اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتا ، اور دوسرے ہاتھ والے لوگوں کے بارے میں فرمایا : یہ لوگ جہنم میں جائیں گے اور میں کوئی پرواہ نہیں کرتا ، پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو واپس سیدنا آدم علیہ السلام کی پشت میں رکھ دیا ، تو اب تک وہ اسی بنیاد پر نسل در نسل پیدا ہو رہے ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور مجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی روح بن مسیب ہے ، یحیی بن معین کہتے ہیں : یہ کم درجہ کا صالح شخص ہے ، دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔