حدیث نمبر: 11778
وَعَنْ أَبِي نَضْرَةَ أَنْ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَالُ لَهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ دَخَلَ عَلَيْهِ أَصْحَابُهُ يَعُودُونَهُ وَهُوَ يَبْكِي ، فَقَالُوا لَهُ : مَا يُبْكِيكَ ؟ أَلَمْ يَقُلْ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذْ مِنْ شَارِبِكَ ثُمَّ أَقِرَّهُ حَتَّى تَلْقَانِي " ؟ ، قَالَ : بَلَى ، وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَبَضَ بِيَمِينِهِ قَبْضَةً وَالْأُخْرَى بِالْيَدِ الْأُخْرَى قَالَ : هَذِهِ لِهَذِهِ ، وَهَذِهِ لِهَذِهِ وَلَا أُبَالِي " ، فَلَا أَدْرِي فِي أَيِّ الْقَبْضَتَيْنِ أَنَا ؟ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ابونضرہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ، جنہیں ابوعبداللہ کہا: جاتا تھا ، ان کے شاگرد ان کی عیادت کرنے کے لئے ان کے پاس آئے ، تو وہ رو رہے تھے ، لوگوں نے ان سے دریافت کیا : آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے یہ ارشاد نہیں فرمایا ہے : اپنی مونچھیں پست رکھو اور پھر انہیں ایسے ہی رکھنا ، یہاں تک تم مجھ سے آ ملو ! تو ان صاحب نے جواب دیا : جی ہاں ! لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے دائیں ہاتھ میں کچھ لوگوں کو لیا اور دوسرے ہاتھ میں دوسرے لوگوں کو لیا اور فرمایا : ” یہ اُس ( یعنی جنت ) کے لئے ہیں اور یہ اُس ( یعنی جہنم ) کے لئے ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ “ ( پھر ان صحابی نے فرمایا : ) مجھے نہیں معلوم میں اُن میں سے کون سی مٹھی میں تھا ؟
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11778
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (176/4)»