مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا سَبَقَ مِنَ اللَّهِ - سُبْحَانَهُ - فِي عِبَادِهِ وَبَيَانِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ . باب: اللہ تعالیٰ کی طرف سے ، اپنے بندوں کے بارے میں ، جو پہلے سے طے ہو چکا ہے اس کا بیان اور اہل جنت اور اہل جہنم کا بیان
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " خَلَقَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - آدَمَ حِينَ خَلَقَهُ فَضَرَبَ كَتِفَهُ الْيُمْنَى ، فَأَخْرَجَ ذُرِّيَّةً بَيْضَاءَ كَأَنَّهُمُ الذَّرُّ ، وَضَرَبَ كَتِفَهُ الْيُسْرَى فَأَخْرَجَ ذُرِّيَّةً سَوْدَاءَ كَأَنَّهُمُ الْحُمَمُ ، فَقَالَ لِلَّذِي فِي يَمِينِهِ : إِلَى الْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِي ، وَقَالَ لِلَّذِي فِي كَفِّهِ الْيُسْرَى : إِلَى النَّارِ وَلَا أُبَالِي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا ، تو اُن کے دائیں کندھے پر ہاتھ مار کر چیونٹیوں کی طرح کی سفید رنگ کی ، اُن کی اولاد کو نکالا ، پھر ان کے بائیں کندھے پر ہاتھ مار کر سیاہ رنگ کی اُن کی اولاد کو نکالا ، جو کوئلے کی مانند تھے ، پھر اللہ تعالیٰ نے دائیں طرف والے لوگوں کے بارے میں یہ فرمایا : یہ جنت میں جائیں گے اور مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے ، اور جو بائیں ہتھیلی میں تھے ان کے بارے میں یہ فرمایا : یہ جہنم میں جائیں گے اور مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔