مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التعبير— ( خوابوں کی ) تعبیر کے بارے میں روایات
بَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا . باب: خواب کی تعبیر کا بیان
وَعَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَوْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : رَأَيْتُ كَأَنَّ ثَلَاثَةَ أَقْمَارٍ سَقَطْنَ فِي حُجْرَتِي ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنْ صَدَقَتْ رُؤْيَاكِ دُفِنَ فِي بَيْتِكِ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ ثَلَاثَةٌ . فَلَمَّا مَاتَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ : خَيْرُ أَقْمَارِكِ يَا عَائِشَةُ . وَدُفِنَ فِي بَيْتِهَا أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَهَذَا سِيَاقُهُ ، وَالْأَوْسَطِ عَنْ عَائِشَةَ مِنْ غَيْرِ شَكٍّ ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ایوب نے ، نافع کے حوالے سے ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ، یا شاید محمد بن سیرین کے حوالے سے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ روایت نقل کی ہے : انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : ” میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے تین چاند اتر کر میرے حجرے میں آ گئے ہیں ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تمہارا خواب سچ ہے ، تو تمہارے گھر میں اہل زمین کے تین سب سے بہتر لوگ دفن ہوں گے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : اے عائشہ ! یہ تمہارے ( یعنی تمہیں نظر آنے والے تینوں ) چاندوں میں سب سے بہتر ہیں ، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں دفن ہوئے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور یہ اس کا سیاق ہے ، معجم اوسط میں اُنہوں نے اسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ، کسی شک کے بغیر نقل کیا ہے ، معجم کبیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔