مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التعبير— ( خوابوں کی ) تعبیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا رَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَنَامِ . باب: اس شخص کا بیان ، جسے نبی اکرم ﷺ نے خواب میں دیکھا ہو
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنِّي رَأَيْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، ثُمَّ أُنْسِيتُهَا ، ثُمَّ رَأَيْتُ فِي يَدِي سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ فَكَرِهْتُهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا ، فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ صَاحِبَ الْيَمَنِ وَصَاحِبَ الْيَمَامَةِ " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ رُؤْيَةُ لَيْلَةِ الْقَدْرِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں خواب میں ، شب قدر کو دیکھا ، پھر وہ مجھے بھلا دی گئی ، پھر میں نے اپنے ہاتھ میں سونے کے بنے ہوئے دو کنگن دیکھے ، مجھے وہ برے لگے ، میں نے ان کو پھونک ماری تو وہ اُڑ گئے میں نے اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ اس سے مراد ، نبوت کے دو جھوٹے دعویدار ہیں ایک وہ جو یمن سے تعلق رکھتا ہے ، اور ایک وہ جو یمامہ سے تعلق رکھتا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس میں سے ، شب قدر کو دیکھنے والا حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام أحمد نے نقل کی ہے ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔