حدیث نمبر: 11751
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : تَنَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ وَهُوَ الَّذِي رَأَى فِيهِ الرُّؤْيَا يَوْمَ أُحُدٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ كَأَنَّ فِي سَيْفِي ذِي الْفَقَارِ فَلًّا ، فَأَوَّلْتُهُ قَتْلًا يَكُونُ فِيكُمْ ، وَرَأَيْتُ أَنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا ، فَأَوَّلْتُهُ كَبْشَ الْكَتِيبَةِ ، وَرَأَيْتُ أَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ ، فَأَوَّلْتُهُ الْمَدِينَةَ ، وَرَأَيْتُ بَقَرًا تُذْبَحُ ، فَبَقَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ فَبَقَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ " . فَكَانَ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ طَرِيقُهُ فِي وَقْعَةِ أُحُدٍ ، وَفِي إِسْنَادِ هَذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار ” ذالفقار “ نفل کے طور پر دی اور یہ وہی تلوار ہے کہ جس کے بارے میں آپ نے غزوہ احد کے موقع پر خواب میں دیکھا اور ارشاد فرمایا : کہ میں نے یہ دیکھا ہے کہ جیسے میری تلوار ” ذوالفقار “ کی دھار خراب ہو گئی ہے ، تو میں نے اس کی تعبیر یہ کی ہے کہ تم میں سے لوگ مارے جائیں گے اور میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے دنبے کو پیچھے بٹھایا ہوا ہے ، تو میں نے اس کی تعبیر یہ کی ہے کہ یہ دشمن کا دنبہ ہے اور میں نے خواب دیکھا کہ جیسے میں ایک محفوظ زرہ میں ہوں ، تو میں نے اس کی تعبیر یہ کی ہے کہ اس سے مراد مدینہ منورہ ہے اور میں نے گائے کو دیکھا کہ اُسے ذبح کیا گیا ہے ، تو اللہ کی قسم ! گائے کی تعبیر اچھی ہی ہو گی ، اللہ کی قسم ! گائے کی تعبیر اچھی ہی ہو گی ۔ راوی کہتے ہیں : تو اُسی طرح ہوا ، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس سیاق کے بغیر نقل کی ہے اس سے پہلے اس روایت کا ایک طریق غزوہ احد سے متعلق باب میں گزر چکا ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التعبير / حدیث: 11751
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2132)»