حدیث نمبر: 11750
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنَّ ضَبَّةَ سَيْفِي انْكَسَرَتْ ، وَكَأَنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا ، فَأَوَّلْتُ أَنَّ كَسْرَ ضَبَّةِ سَيْفِي قَتْلُ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِي ، وَأَنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا أَنْ أَقْتُلَ كَبْشَ الْقَوْمِ " . فَقَتَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَلْحَةَ بْنَ أَبِي طَلْحَةَ صَاحِبَ لِوَاءِ الْمُشْرِكِينَ ، وَقُتِلَ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے میری تلوار کی دھار ٹوٹ گئی ہے اور جیسے میں ایک دنبے کو پیچھے بٹھائے ہوئے ہوں ، تو میں نے اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ میری تلوار کی دھار ٹوٹنے سے مراد ، میری قوم کا ایک شخص قتل ہو جائے گا ، اور میرے دنبے کو پیچھے بٹھانے سے مراد یہ ہے کہ میں دشمن کے ایک شخص کو قتل کروں گا “ ۔ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے علم بردار طلحہ بن ابوطلحہ کو قتل کیا اور سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ شہید ہوئے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام أحمد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن خراب حافظے کا مالک ہے ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التعبير / حدیث: 11750
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2131) اخرجه احمد فى المسند (267/3)»