حدیث نمبر: 11747
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " رَأَيْتُ كَأَنِّي أُتِيتُ بِكُتْلَةِ تَمْرٍ ، فَعَجَمْتُهَا فِي فَمِي ، فَوَجَدْتُ فِيهَا نَوَاةً آذَتْنِي فَلَفَظْتُهَا ، ثُمَّ أَخَذْتُ أُخْرَى ، فَعَجَمْتُهَا فِي فَمِي ، فَوَجَدْتُ فِيهَا نَوَاةً فَلَفَظْتُهَا ، ثُمَّ أَخَذْتُ أُخْرَى فَوَجَدْتُ فِيهَا نَوَاةً فَلَفَظْتُهَا " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : دَعْنِي فَلْأَعْبُرْهَا قَالَ : " عَبِّرْهَا " . قَالَ : هُوَ جَيْشُكَ الَّذِي بَعَثْتَ ، فَيَسْلَمُونَ وَيَغْنَمُونَ ، فَيَلْقَوْنَ رَجُلًا فَيَنْشُدُهُمْ ذِمَّتَكَ فَيَدَعُونَهُ ، ثُمَّ يَلْقَوْنَ رَجُلًا فَيَنْشُدُهُمْ ذِمَّتَكَ فَيَدَعُونَهُ ، ثُمَّ يَلْقَوْنَ رَجُلًا فَيَنْشُدُهُمْ ذِمَّتَكَ فَيَدَعُونَهُ . قَالَ : " كَذَلِكَ قَالَ الْمَلَكُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے میرے پاس کھجوروں کا گچھا آیا ، میں نے ایک کجھور کو اپنے منہ میں ڈالا ، تو میں نے اس میں ایسی گٹھلی پائی ، جس نے مجھے تکلیف پہنچائی ، تو میں نے اسے پھینک دیا ، پھر میں نے ایک اور کھجور لی اور اسے اپنے منہ میں ڈالا ، تو میں نے اس میں بھی گٹھلی پائی ، میں نے اسے بھی پھینک دیا ، پھر میں نے ایک اور کھجور لی ، میں نے اس میں بھی گٹھلی پائی ، تو میں نے اسے بھی پھینک دیا “ ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : آپ مجھے موقع دیجئے کہ میں اس کی تعبیر بیان کروں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیان کرو ! انہوں نے عرض کی : اس سے مراد آپ کا بھیجا ہوا وہ شکر ہے جسے آپ نے بھیجا ہو اور وہ سلامت رہے ہوں ، انہوں نے غنیمت حاصل کی ہو ، اور وہ لوگ ایک ایسے شخص سے ملے ہوں کہ جس نے آپ کی دی ہوئی پناہ کے حوالے سے انہیں واسطہ دیا ہو ، تو ان لوگوں نے اسے چھوڑ دیا ہو ، پھر وہ لوگ ایک شخص سے ملے ہوں اور اس نے انہیں آپ کی دی ہوئی پناہ کا واسطہ دیا ہو ، تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا ہو ، پھر وہ لوگ ایک ایسے شخص سے ملے ہوں ، جس نے انہیں آپ کی دی ہوئی پناہ کا واسطہ دیا ہو ، تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : فرشتے نے ( یا بادشاہ نے ، یعنی اللہ تعالیٰ نے ) اسی طرح کہا: ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التعبير / حدیث: 11747
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (399/3)»