حدیث نمبر: 11746
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنِّي رَأَيْتُ الْبَارِحَةَ عَجَبًا ، رَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي قَدِ احْتَوَشَتْهُ مَلَائِكَةٌ ، فَجَاءَهُ وُضُوءُهُ فَاسْتَنْقَذَهُ مِنْ ذَلِكَ . وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي قَدْ سُلِّطَ عَلَيْهِ عَذَابُ الْقَبْرِ ، فَجَاءَتْهُ صِلَاتُهُ فَاسْتَنْقَذَتْهُ مِنْ ذَلِكَ . وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي قَدِ احْتَوَشَتْهُ الشَّيَاطِينُ ، فَجَاءَهُ ذِكْرُ اللَّهِ فَخَلَّصَهُ مِنْهُمْ . وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي يَلْهَثُ مِنَ الْعَطَشِ ، فَجَاءَهُ صِيَامُ رَمَضَانَ فَسَقَاهُ . وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ ظُلْمَةٌ وَمِنْ خَلْفِهِ ظُلْمَةٌ ، وَعَنْ يَمِينِهِ ظُلْمَةٌ ، وَعَنْ شِمَالِهِ ظُلْمَةٌ ، وَمِنْ فَوْقِهِ ظُلْمَةٌ ، وَمِنْ تَحْتِهِ ظُلْمَةٌ ، فَجَاءَهُ حَجُّهُ ، وَعُمْرَتُهُ ، فَاسْتَخْرَجَاهُ مِنَ الظُّلْمَةِ . وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي جَاءَهُ مَلَكُ الْمَوْتِ لِيَقْبِضَ رُوحَهُ ، فَجَاءَتْهُ صِلَةُ الرَّحِمِ ، فَقَالَتْ : إِنَّ هَذَا كَانَ وَاصِلًا لِرَحِمِهِ فَكَلَّمَهُمْ ، وَكَلَّمُوهُ وَصَارَ مَعَهُمْ . وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي يَتَّقِي وَهَجَ النَّارِ عَنْ وَجْهِهِ ، فَجَاءَتْهُ صَدَقَتُهُ ، فَصَارَتْ ظِلًّا عَلَى رَأْسِهِ وَسِتْرًا عَنْ وَجْهِهِ . وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي جَاءَتْهُ زَبَانِيَةُ الْعَذَابِ ، فَجَاءَهُ أَمْرُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهْيُهُ عَنِ الْمُنْكَرِ ، فَاسْتَنْقَذَهُ مِنْ ذَلِكَ . وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي هَوَى فِي النَّارِ ، فَجَاءَتْهُ دُمُوعُهُ الَّتِي بَكَى مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ فَأَخْرَجَتْهُ مِنَ النَّارِ . وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي قَدْ هَوَتْ صَحِيفَتُهُ إِلَى شِمَالِهِ ، فَجَاءَهُ خَوْفُهُ مِنَ اللَّهِ فَأَخَذَ صَحِيفَتَهُ فِي يَمِينِهِ . وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي قَدْ خَفَّ مِيزَانُهُ ، فَجَاءَهُ إِقْرَاضُهُ فَثَقُلَ مِيزَانُهُ . وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي يُرْعِدُ كَمَا تُرْعِدُ الزَّعْفَةُ ، فَجَاءَهُ حُسْنُ ظَنِّهِ بِاللَّهِ فَسَكَّنَ رِعْدَتَهُ . وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي يَزْحَفُ عَلَى الصِّرَاطِ مَرَّةً وَيَجْثُو مَرَّةً وَيَتَعَلَّقُ مَرَّةً ، فَجَاءَتْهُ صَلَاتُهُ عَلَيَّ فَأَخَذَتْ بِيَدِهِ فَأَقَامَتْهُ عَلَى الصِّرَاطِ حَتَّى جَاوَزَ . وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي انْتَهَى إِلَى أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَغُلِّقَتِ الْأَبْوَابُ دُونَهُ ، فَجَاءَتْهُ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَأَخَذَتْ بِيَدِهِ فَأَدْخَلَتْهُ الْجَنَّةَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، فِي أَحَدِهِمَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ ، وَفِي الْآخَرِ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے گزشتہ رات حیران کن خواب دیکھا ہے ، میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا ، جسے فرشتوں نے گھیر لیا تھا ، پھر اس کا وضو اس کے پاس آیا اور اسے اس چیز سے بچا لیا ، میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا جس پر قبر کا عذاب مسلط کیا جا رہا تھا ، پھر اس کی نماز اس کے پاس آئی اور اس نے اس شخص کو اس عذاب سے بچا لیا ، میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا ، جسے شیاطین نے گھیر لیا تھا ، تو اللہ کا ذکر اس شخص کے پاس آیا ، تو اُس ذکر نے اس شخص کو ان شیاطین سے نجات دلوائی میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا ، جو پیاس کی شدت کی وجہ سے زبان باہر نکالے ہوئے تھا ، تو رمضان کا روزہ اس کے پاس آیا اور اس نے اسے پانی پلایا ، میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا جس کے آگے تاریکی تھی اور اس کے پیچھے تاریکی تھی اس کے دائیں طرف تاریکی تھی اس کے بائیں طرف تاریکی تھی اس کے اوپر تاریکی تھی اس کے نیچے تاریکی تھی ، تو اس کا حج اور اس کا عمرہ اس کے پاس آئے اور اُن دونوں نے اس شخص کو تاریکی سے نکال دیا ، میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا کہ ملک الموت اس کی روح قبض کرنے کے لئے ، اس کے پاس آیا ، تو صلہ رحمی اس شخص کے پاس آئی اور بولی: یہ شخص صلہ رحمی کرنے والا تھا ، تو اس نے ان کے ساتھ بات چیت کی ، اور انہوں نے اس کے ساتھ بات چیت کی ، تو وہ اُن کے ساتھ ہو گیا ۔ میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا ، جو اپنے چہرے کو آگ کی تپش سے بچانا چاہ رہا تھا ، تو اس کا صدقہ اس کے پاس آیا اور اس کے سر پر سائے کے طور پر اور چہرے کے آگے رکاوٹ کے طور پر ہو گیا ، میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا کہ عذاب کے فرشتے اس کے پاس آئے ، تو اس کا نیکی کا حکم دینا اور اس کا برائی سے منع کرنا ، اس شخص کے پاس آئے اور اسے اس چیز سے نجات دلوا دی ، میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ جہنم میں گرنے لگا تھا ، تو اس کے وہ آنسو اس کے پاس آئے کہ جب وہ اللہ کے خوف کی وجہ سے رویا تھا اور آنسوؤں نے اسے جہنم سے نکال دیا ، میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا جس کا صحیفہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جا رہا تھا ، تو اللہ سے اس کا خوف اس کے پاس آیا ، اور اس نے وہ صحیفہ لے کر اس کے دائیں ہاتھ میں دے دیا ، میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا جس کا ( نیکیوں کا ) پلڑا ہلکا تھا ، تو اس نے جو قرض دیا تھا ، وہ اس کے پاس آیا تو اس کا ( نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو گیا ، میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا ، جو یوں کانپ رہا تھا ، جس طرح کھجور کی ٹہنی کانپتی ہے ، تو اس کا اللہ تعالیٰ کے بارے میں حسن ظن اس کے پاس آیا ، تو اس کی کپکپاہٹ ختم ہو گئی ، میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا کہ جو پل صراط پر کبھی گھسٹ کر اور کبھی بیٹھ کر گزر رہا تھا ، کبھی وہ لٹک جاتا تھا ، تو اُس نے جو مجھ پر درود بھیجا تھا ، وہ ( درود ) اس کے پاس آیا اور اس نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے پل صراط پر کھڑا کر کے اُسے پار کروا دیا ، میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا ، جو جنت کے دروازوں تک پہنچ چکا تھا ، لیکن اس کے لئے دروازے بند تھے ، تو اس بات کی گواہی دینا ، اُس کے پاس آیا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اس نے اس شخص کا ہاتھ پکڑا اور اُسے جنت میں داخل کروا دیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک سند میں ایک راوی سلیمان بن أحمد واسطی ہے اور دوسری سند میں ایک راوی خالد بن عبدالرحمن مخزومی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التعبير / حدیث: 11746
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف