مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التعبير— ( خوابوں کی ) تعبیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا رَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَنَامِ . باب: اس شخص کا بیان ، جسے نبی اکرم ﷺ نے خواب میں دیکھا ہو
وَعَنْ أُمِّ الطُّفَيْلِ امْرَأَةِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " رَأَيْتُ رَبِّي فِي الْمَنَامِ فِي صُورَةِ شَابٍّ مُوَفِّرٍ فِي خُفٍّ ، عَلَيْهِ نَعْلَانِ مِنْ ذَهَبٍ ، عَلَى وَجْهِهِ فِرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ " قَالَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَقَالَ ابْنُ حِبَّانَ : إِنَّهُ حَدِيثٌ مُنْكَرٌ لِأَنَّ عُمَارَةَ بْنَ عَامِرِ بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيَّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أُمِّ الطُّفَيْلِ ، ذَكَرَهُ فِي تَرْجَمَةِ عُمَارَةَ فِي الثِّقَاتِ . ¤سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ، سیدہ ام طفیل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں نے اپنے پروردگار کو ایک نوجوان کی شکل میں خواب میں دیکھا ، جس کے بال بڑے تھے اس نے موزے پہنے ہوئے تھے ، اور اس پر سونے کے جوتے پہنے ہوئے تھے اور اس کے چہرے پر سونے کا فراش تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ابن حبان کہتے ہیں : یہ منکر حدیث ہے ، کیونکہ عمارہ بن عامر بن حزم انصاری نے سیدہ ام طفیل رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے ، انہوں نے کتاب ” الثقات “ میں عمارہ نامی راوی کے حالات میں یہ بات ذکر کی ہے ۔