مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التعبير— ( خوابوں کی ) تعبیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا رَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَنَامِ . باب: اس شخص کا بیان ، جسے نبی اکرم ﷺ نے خواب میں دیکھا ہو
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَتَانِي رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، قَالَ : فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ : لَا أَدْرِي . فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ ، فَعَلِمْتُ فِي مَقَامِي ذَلِكَ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ . قَالَ : فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ : فِي الدَّرَجَاتِ ، وَالْكَفَّارَاتِ ، فَأَمَّا الدَّرَجَاتُ : فَإِبْلَاغُ الْوُضُوءِ فِي السَّبَرَاتِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ . قَالَ : صَدَقْتَ ، مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ عَاشَ بِخَيْرٍ وَمَاتَ بِخَيْرٍ ، وَكَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ . وَأَمَّا الْكَفَّارَاتُ : فَإِطْعَامُ الطَّعَامِ ، وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ ، وَطِيبُ الْكَلَامِ ، وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ . ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عَمَلَ الْحَسَنَاتِ ، وَتَرْكَ السَّيِّئَاتِ ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ وَمَغْفِرَةً ، وَأَنْ تَتُوبَ عَلَيَّ ، وَإِذَا أَرَدْتَ بِقَوْمٍ فِتْنَةً فَنَجِّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میرا پروردگار ، میرے پاس بہترین صورت میں آیا اس نے فرمایا : اے محمد ! میں نے عرض کی : میں حاضر ہوں اور سعادت مندی تیری طرف سے حاصل ہو سکتی ہے ، اس نے دریافت کیا : ملاء اعلیٰ کس چیز کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کی : مجھے نہیں معلوم ، تو اس نے اپنا ہاتھ میرے سینے کے درمیان رکھا ، تو میں نے اپنی جگہ پر موجود رہتے ہوئے ، اُس چیز کے بارے میں جان لیا ، جس کے بارے میں اس نے مجھ سے دریافت کیا تھا ، خواہ اس کا تعلق دنیا کے امور سے ہو ، یا آخرت سے ہو ، اس نے دریافت کیا : ملاء اعلیٰ کس چیز کے بارے میں بحث کر رہے ہیں ؟ تو میں نے عرض کی : درجات کے بارے میں اور کفارات کے بارے میں ، جہاں تک درجات کا تعلق ہے ، تو اس میں سردی کے موسم میں اچھی طرح وضو کرنا ، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا شامل ہے ، پروردگار نے فرمایا : تم نے سچ کہا: ہے ، جو شخص ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندہ رہے گا اور بھلائی کے ساتھ مرے گا اور اپنے گناہوں کے حوالے سے یوں ہو جائے گا ، جیسے اُس دن تھا ، جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) جہاں تک کفارات کا تعلق ہے ، تو وہ کھانا کھلانا ، سلام پھیلانا ، پاکیزہ گفتگو کرنا اور رات کے وقت ، اُس وقت نماز ادا کرنا ہے ، جب لوگ سو رہے ہوں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ” اے اللہ ! میں تجھ سے یہ دعا مانگتا ہوں کہ میں نیکیاں کروں اور برائیاں ترک کر دوں اور مسکینوں سے محبت رکھوں اور مغفرت مانگتا ہوں ، اور یہ مانگتا ہوں کہ تو میری توبہ قبول فرما لے اور جب تو کسی قوم کو فتنے میں مبتلا کرنے کا ارادہ کرے ، تو مجھے ایسی حالت میں نجات دینا کہ میں فتنے سے محفوظ رہوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ ضعیف ہونے کے باوجود حسن الحدیث ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔