حدیث نمبر: 11743
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَلَبَّثَ عَنْ أَصْحَابِهِ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى قَالُوا : طَلَعَتِ الشَّمْسُ - أَوْ تَطْلُعُ - ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَقَالَ : " اثْبُتُوا عَلَى مَصَافِّكُمْ " . ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ لَهُمْ : " هَلْ تَدْرُونَ مَا حَبَسَنِي عَنْكُمْ ؟ " . قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " إِنِّي صَلَّيْتُ فِي مُصَلَّايَ فَضُرِبَ عَلَى أُذُنِي ، فَجَاءَنِي رَبِّي - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، فَقُلْتُ : لَبَّيْكَ رَبِّي وَسَعْدَيْكَ . قَالَ : فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ : لَا أَدْرِي يَا رَبِّ . فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ ، فَعَلِمْتُ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ ، ثُمَّ قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ رَبِّي وَسَعْدَيْكَ . قَالَ : فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ : فِي الْكَفَّارَاتِ وَالدَّرَجَاتِ . قَالَ : وَمَا الْكَفَّارَاتُ وَالدَّرَجَاتُ ؟ قُلْتُ : الْكَفَّارَاتُ : إِسْبَاعُ الْوُضُوءِ عِنْدَ الْكَرِيهَاتِ ، وَمَشْيٌ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ ، وَجُلُوسٌ فِي الْمَسَاجِدِ خَلْفَ الصَّلَوَاتِ ، وَأَمَّا الدَّرَجَاتُ : فَإِطْعَامُ الطَّعَامِ ، وَطِيبُ الْكَلَامِ ، وَالسُّجُودُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ . فَقَالَ لِي رَبِّي - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : سَلْنِي يَا مُحَمَّدُ . قُلْتُ : أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ ، وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي ، وَإِذَا أَرَدْتَ بِقَوْمٍ فِتْنَةً فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ . اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى حُبِّكَ . اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا يُبَاشِرُ قَلْبِي حَتَّى أَعْلَمَ أَنَّهُ لَا يُصِيبُنِي إِلَّا مَا كُتِبَ لِي ، وَرِضًا بِمَا قَضَيْتَ لِي " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ بَعْضُهُمْ ، وَلَمْ يُلْتَفَتْ إِلَيْهِ فِي ذَلِكَ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا الْبَابِ فِي إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ وَالصَّلَاةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو صبح کی نماز کے لئے ، اپنے اصحاب کے پاس آنے میں تاخیر ہو گئی ، یہاں تک کہ لوگ یہ کہنے لگے کہ شاید سورج طلوع ہونے والا ہے ، پھر آپ تشریف لائے ، آپ نے ان لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے رہو ، پھر آپ اُن کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ کس چیز نے مجھے تمہارے پاس آنے سے روکے رکھا ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنی جائے نماز پر ، نماز ادا کی ، پھر میرے کانوں پر بندش ڈال دی گئی ( یعنی میری آنکھ لگ گئی یا میری توجہ دنیا سے ہٹ گئی ) میرا پروردگار میرے پاس بہترین صورت میں آیا ، اُس نے فرمایا : اے محمد ! میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! میں حاضر ہوں اور سعادت تیری طرف سے حاصل ہو سکتی ہے ، اس نے دریافت کیا : ملاء اعلیٰ کس چیز کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! میں نہیں جانتا ، پھر اُس نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا ، یہاں تک کہ میں نے اُس کی ٹھنڈک اپنے سینے کے درمیان محسوس کی اور میں نے وہ چیز جان لی ، جس کے بارے میں اس نے مجھ سے پوچھا: تھا ، پھر اس نے فرمایا : اے محمد ! میں نے عرض کی : میں حاضر ہوں ، اے میرے پروردگار ! اور سعادت مندی تیری طرف سے حاصل ہو سکتی ہے ، اس نے دریافت کیا : ملاء اعلیٰ کسی چیز کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کی : کفاروں کے بارے میں ، اور درجات کے بارے میں ، اس نے دریافت کیا : کفارات کیا ہیں ؟ اور درجات کیا ہیں ؟ میں نے عرض کی : کفارات یہ ہیں : طبیعت کو ناگوار گزرنے کے وقت اچھی طرح وضو کرنا ، باجماعت نماز کے لئے پیدل چل کر جانا اور نمازوں کے بعد مساجد میں بیٹھے رہنا ، اور جہاں تک درجات کا تعلق ہے ، تو وہ کھانا کھلانا ، پاکیزہ گفتگو کرنا اور رات کے وقت سجدے کرنا ہے ، جب لوگ سو رہے ہوں ، میرے پروردگار نے مجھ سے فرمایا : اے محمد ! تم مجھ سے مانگو ! میں نے عرض کی : ” میں تجھ سے بھلائی کے کام سر انجام دینے ، منکرات کو ترک کرنے اور مسکینوں سے محبت کرنے کا سوال کرتا ہوں ، اور تجھ سے یہ چیز مانگتا ہوں ، کہ تو میری مغفرت کر دے اور تو مجھ پر رحم کر اور جب تو کسی قوم کے لئے کسی آزمائش کا ارادہ کرے ، تو مجھے ایسی حالت میں موت دینا کہ میں آزمائش سے محفوظ رہوں ۔ اے اللہ ! میں تجھ سے تیری محبت اور ایسے عمل کی محبت کا سوال کرتا ہوں ، جو مجھے تیری محبت کے قریب کر دے ۔ اے اللہ ! میں تجھ سے ایسے ایمان کا سوال کرتا ہوں کہ جو میرے دل میں یوں پیوست ہو جائے کہ میں یہ بات جان لوں کہ مجھے صرف وہی چیز نصیب ہو گی ، جو میرے نصیب میں لکھی ہوئی ہے اور اس چیز کے حوالے سے رضا مندی کا سوال کرتا ہوں ، جو تو نے میرے بارے میں فیصلہ دیا ہو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن سنان ہے اور وہ ضعیف ہے ، بعض حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، لیکن اس بات کی طرف توجہ نہیں دی جائے گی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی کچھ احادیث اچھی طرح وضو کرنے اور نماز ادا کرنے اور دیگر ابواب میں گزر چکی ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التعبير / حدیث: 11743
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف