مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التعبير— ( خوابوں کی ) تعبیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا رَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَنَامِ . باب: اس شخص کا بیان ، جسے نبی اکرم ﷺ نے خواب میں دیکھا ہو
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، فَقَالَ : " إِنَّ رَبِّي أَتَانِي اللَّيْلَةَ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، هَلْ تَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ " . قَالَ : " قُلْتُ : لَا " . قَالَ : ثُمَّ ذَكَرَ شَيْئًا قَالَ : " فَخُيِّلَ لِي مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ " . قَالَ : " قُلْتُ : نَعَمْ ، يَخْتَصِمُونَ فِي الْكَفَّارَاتِ وَالدَّرَجَاتِ ، فَأَمَّا الدَّرَجَاتُ : فَإِطْعَامُ الطَّعَامِ ، وَبَذْلُ السَّلَامِ ، وَقِيَامُ اللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ ، وَأَمَّا الْكَفَّارَاتُ : فَمَشْيٌ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ ، وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكْرُوهَاتِ ، وَجُلُوسٌ فِي الْمَسَاجِدِ خَلْفَ الصَّلَوَاتِ ، ثُمَّ قَالَ : يَامُحَمَّدُ ، قُلْ تُسْمَعْ ، وَسَلْ تُعْطَهْ " . قَالَ : " قُلْتُ : فَعَلِّمْنِي . قَالَ : قُلْ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي ، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً فِي قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي إِلَيْكَ وَأَنَا غَيْرُ مَفْتُونٍ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ ، وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ ، وَحُبًّا يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحْبِيِّ ، وَأَبُو يَحْيَى لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے بعد ، ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” گزشتہ رات میرا پروردگار ، میرے پاس خوبصورت ترین شکل میں آیا اور اس نے فرمایا : اے محمد ! کیا تم جانتے ہو ؟ ملاء اعلیٰ کس چیز کے بارے میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! راوی بیان کرتے ہیں : پھر آپ نے کچھ چیزیں ذکر کیں پھر فرمایا : میرے سامنے آسمان اور زمین کے درمیان موجود چیزیں ظاہر ہو گئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو میں نے عرض کی جی ہاں ! وہ کفاروں اور درجات کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں ، جہاں تک درجات کا تعلق ہے ، تو وہ کھانا کھلانا ، سلام پھیلانا اور رات کو اس وقت نماز ادا کرنا ہے ، جب لوگ سو رہے ہوں اور جہاں تک کفاروں کا تعلق ہے ، تو وہ باجماعت نماز کے لئے پیدل چل کر جانا ، طبیعت کو ناگوار گزرنے کے وقت اچھی طرح وضو کرنا اور نماز ادا کرنے لینے کے بعد مسجد میں بیٹھنا ہے ، پھر پروردگار نے فرمایا : اے محمد ! تم بولو سنا جائے گا ، تم مانگو ، تمہیں دیا جائے گا “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : میں نے عرض کی : تو مجھے تعلیم دے ! تو پروردگار نے فرمایا : تم یہ پڑھو : ” اے اللہ ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ میں بھلائی کے کام کروں ، منکرات کو ترک کر دوں ، مسکینوں سے محبت رکھوں ( اور یہ سوال کرتا ہوں ) کہ تو میری مغفرت کر دے اور تو مجھ پر رحم کر اور جب تو کسی قوم کو آزمائش میں مبتلا کرنے کا ارادہ کرے تو مجھے وفات دے دینا ، ایسی حالت میں کہ میں فتنے سے محفوظ ہوؤں ۔ اے اللہ ! میں تجھ سے تیری محبت اور اس شخص کی محبت کا سوال کرتا ہوں ، جو تجھ سے محبت رکھتا ہو ، اور اس محبت کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے ، ابویحیی کے حوالے سے ، ابواسماء رحبی سے نقل کی ہے اور ابویحیی نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔