مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التعبير— ( خوابوں کی ) تعبیر کے بارے میں روایات
بَابُ فِيمَنْ رَأَى مَا يُحِبُّ أَوْ غَيْرَهُ . باب: اس شخص کا باین ، جو ایسی چیز دیکھتا ہے ، جو اسے پسند ہو ، یا اس کے علاوہ ( کچھ دیکھتا ہے )
حدیث نمبر: 11732
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ، فَمَنْ رَأَى خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - [ عَلَيْهِ ] وَلَيَذْكُرْهُا ، وَمَنْ رَأَى غَيْرَ ذَلِكَ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - مِنْ شَرِّ رُؤْيَاهُ وَلَا يَذْكُرْهَا فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ الْهَاشِمِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” نیک خواب ، نبوت کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہیں ، جو شخص بھلائی کی بات دیکھے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے اور اس کا ذکر کرے اور جو شخص اس کے علاوہ ( یعنی کوئی ناگوار خواب ) دیکھے ، تو وہ اپنے خواب کے شر سے ، اللہ کی پناہ مانگے ، اور اُس کا ذکر نہ کرے ، تو وہ خواب اُسے نقصان نہیں پہنچائے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ سلیمان بن داؤد ہاشمی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔