مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التعبير— ( خوابوں کی ) تعبیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ كَذَبَ فِي حُلْمِهِ . باب: اس شخص کا بیان ، جو جھوٹا خواب بیان کرے
وَعَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ مِنْ أَعْتَى النَّاسِ عَلَى اللَّهِ مَنْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ ، أَوْ طَلَبَ بِدَمِ الْجَاهِلِيَّةِ فِي الْإِسْلَامِ ، أَوْ بَصَّرَ عَيْنَيْهِ فِي النَّوْمِ مَا لَمْ تُبْصِرْ " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ قَوْلِهِ : " أَوْ بَصَّرَ عَيْنَيْهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے بارے میں ، لوگوں میں سب سے زیادہ سرکش وہ شخص ہے ، جو اپنے قاتل کے علاوہ کسی کو قتل کرے ، یا زمانہ اسلام میں زمانہ جاہلیت کے کسی خون کا بدلہ طلب کرے ، یا اپنی آنکھوں کو نیند کے حوالے سے وہ چیز دکھائے ، جو انہوں نے نہیں دیکھی ( یعنی جھوٹا خواب بیان کرے ) “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” وہ اپنی آنکھوں کو دکھائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔