مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التعبير— ( خوابوں کی ) تعبیر کے بارے میں روایات
بَابُ فِيمَنْ رَأَى مَا يُحِبُّ أَوْ غَيْرَهُ . باب: اس شخص کا باین ، جو ایسی چیز دیکھتا ہے ، جو اسے پسند ہو ، یا اس کے علاوہ ( کچھ دیکھتا ہے )
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا قَالَ : " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يُبَشَّرُهَا الْمُؤْمِنُ عَلَى جُزْءٍ مِنْ تِسْعَةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ، فَمَنْ رَأَى ذَلِكَ فَلْيُخْبِرْ بِهَا ، وَمَنْ رَأَى سِوَى ذَلِكَ فَإِنَّمَا هُوَ مِنَ الشَّيْطَانِ لِيُحْزِنَهُ ، فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا ، وَلْيَسْكُتْ وَلَا يُخْبِرْ بِهَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ ابْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، وَحَدِيثُهُمَا حَسَنٌ ، وَفِيهِمَا ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” ان لوگوں کے لئے دنیاوی زندگی میں خوشخبری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نیک خواب ، جس کے ذریعے مومن شخص کو خوشخبری دی جاتی ہے ، یہ نبوت کے انچاس اجزاء میں سے ایک جزء ہے ، جو شخص ایسا خواب دیکھے ، تو وہ اُس کے بارے میں ( کسی کو ) بتا دے ، اور جو شخص اُس کے علاوہ ( یعنی کوئی ناگوار ، یا ڈراؤنا ) خواب دیکھے ، تو وہ خواب ، شیطان کی طرف سے ہو گا ، تاکہ وہ شیطان اُسے غمگین کر دے ، اُس شخص کو اپنے بائیں طرف تین مرتبہ تھوک دینا چاہیے اور خاموش رہنا چاہیے اور اس خواب کے بارے میں ( کسی کو ) نہیں بتانا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ابن لہیعہ کے حوالے سے دراج سے نقل کی ہے اور ان دونوں کی نقل کردہ حدیث حسن ہوتی ہے اور ان دونوں میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔