حدیث نمبر: 117
وَعَنْ جَرِيرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : لَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَيْتُهُ لِأُبَايِعَهُ ، قَالَ : " لِأَيِّ شَيْءٍ جِئْتَنَا يَا جَرِيرُ ؟ " قُلْتُ : جِئْتُ لِأُسْلِمَ عَلَى يَدَيْكَ ، فَدَعَانِي إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ ، وَتُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ . قَالَ : فَأَلْقَى إِلَيَّ كِسَاءَهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ : " إِذَا جَاءَكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فَأَكْرِمُوهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ حُصَيْنُ بْنُ عُمَرَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ وَكَذِبِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا ، تو میں آپ کی بیعت کرنے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے جریر ! تم ہمارے پاس کیوں آئے ہو ؟ میں نے عرض کی : میں اس لئے آیا ہوں تاکہ آپ کے دست اقدس پر اسلام قبول کر لوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بات کی گواہی دینے کی دعوت دی ، کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ ، اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور میں ( یعنی نبی اکرم ) اللہ کا رسول ہوں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا : ) تم فرض نماز ادا کرنا ، فرض زکوۃ دینا ، اچھی اور بری ( ہر قسم کی ) تقدیر پر ایمان رکھنا ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر میری طرف بڑھائی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : ” جب کسی قوم کا کوئی معزز فرد ، تمہارے پاس آئے ، تو اس کا احترام کرو “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی حصین بن عمر ہے ، جس کے ضعیف اور جھوٹے ہونے پر اتفاق ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 117
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 2266 ، 2358 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 793»