مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ ثَانٍ . باب: اس مضمون سے متعلق دیگر روایات
وَعَنِ ابْنِ الْخَصَاصِيَةِ السَّدُوسِيِّ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُبَايِعُهُ ، فَاشْتَرَطَ عَلَيَّ : " اشْهَدْ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَتُصَلِّي الْخَمْسَ ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ ، وَتُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمَّا اثْنَتَانِ فَلَا أُطِيقُهُمَا : الزَّكَاةُ ، فَوَاللَّهِ مَا لِي إِلَّا عَشْرُ ذَوْدٍ هُنَّ رُسُلُ أَهْلِي وَحَمُولَتُهُمْ ، وَأَمَّا الْجِهَادُ فَيَزْعُمُونَ أَنَّهُ مَنْ وَلَّى الدُّبُرَ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ ، فَأَخَافُ إِذَا حَضَرَنِي قِتَالٌ خَشَعَتْ نَفْسِي فَكَرِهْتُ الْمَوْتَ ، فَقَبَضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ وَحَرَّكَهَا ، وَقَالَ : " لَا صَدَقَةَ وَلَا جِهَادَ فَبِمَ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ ؟ " فَبَايَعْتُهُ عَلَيْهِنَّ كُلِّهِنَّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَاللَّفْظُ لِلطَّبَرَانِيِّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ مُوَثَّقُونَ . ¤سیدنا ابن خصاصیہ سدوسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ، آپ کی بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر یہ شرط عائد کی : کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ ، اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ، اور تم پانچ نمازیں ادا کرو ، رمضان کے روزے رکھو ، زکوٰۃ ادا کرو ، بیت اللہ کا حج کرو ، اور تم اللہ کی راہ میں جہاد کرو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! دو چیزوں کی تو میں طاقت نہیں رکھتا ، زکوۃ ادا کرنے کی ، کیونکہ میرے پاس صرف دس اونٹ ہیں ، اور وہ میرے گھر والوں کے کام کاج اور سفر کے کام آتے ہیں ، اور دوسری چیز جہاد ہے ، کیونکہ لوگ یہ کہتے ہیں : کہ جو شخص پیٹھ پھیر کر واپس آ جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا غضب ساتھ لاتا ہے ، تو مجھے یہ اندیشہ ہے کہ جب میں جنگ کے موقع پر موجود ہوا ، اور پھر میرے دل میں خوف آ گیا اور مجھے موت ناپسند ہوئی ( تو میں جہاد چھوڑ کر ، اللہ تعالیٰ کے غضب کا مستحق نہ بن جاؤں ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مٹھی بند کی ، اُسے حرکت دی ، اور فرمایا : نہ صدقہ ہے ، نہ جہاد ہے ، تو پھر تم کس بنیاد پر جنت میں داخل ہو گے ؟
( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو میں نے اُن سب باتوں پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر لی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور مجحم اوسط میں نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ امام طبرانی کے ہیں ، اور امام أحمد کے رجال کو ثقہ قرار دیا گیا ہے ۔