حدیث نمبر: 116
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا بَرَزْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ إِذَا رَاكِبٌ يُوضِعُ نَحْوَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَأَنَّ هَذَا الرَّاكِبَ أَتَاكُمْ " ، يُرِيدُنَا . قَالَ : فَانْتَهَى الرَّجُلُ إِلَيْنَا فَسَلَّمَ ، فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ ؟ " قَالَ : مِنْ أَهْلِي وَوَلَدِي وَعَشِيرَتِي . قَالَ : " فَأَيْنَ تُرِيدُ ؟ " قَالَ : أُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " فَقَدْ أَصَبْتَهُ " . قَالَ :يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي مَا الْإِيمَانُ ؟ فَقَالَ : " تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ " . قَالَ : أَقْرَرْتُ . قَالَ : ثُمَّ إِنَّ بَعِيرَهُ دَخَلَتْ يَدُهُ فِي شَبَكَةِ جُرْذَانٍ ، فَهَوَى بَعِيرُهُ وَهَوَى الرَّجُلُ ، فَوَقَعَ عَلَى هَامَتِهِ فَمَاتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَلَيَّ بِالرَّجُلِ " . قَالَ : فَوَثَبَ إِلَيْهِ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ وَحُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ ، فَأَقْعَدَاهُ فَقَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُبِضَ الرَّجُلُ . فَأَعْرَضَ عَنْهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَا رَأَيْتُمَا إِعْرَاضِي عَنِ الرَّجُلِ ، فَإِنِّي رَأَيْتُ مَلَكَيْنِ يَدُسَّانِ فِيهِ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ ، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ مَاتَ جَائِعًا ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَذَا وَاللَّهِ مِنَ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : ( الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ ). قَالَ : ثُمَّ قَالَ : " دُونَكُمْ أَخَاكُمْ " . قَالَ : فَاحْتَمَلْنَاهُ إِلَى الْمَاءِ ، فَغَسَّلْنَاهُ وَحَنَّطْنَاهُ وَكَفَّنَّاهُ وَحَمَلْنَاهُ إِلَى الْقَبْرِ ، فَقَالَ : " أَلْحِدُوا ، وَلَا تَشُقُّوا " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " هَذَا مِمَّنْ عَمِلَ قَلِيلًا وَأُجِرَ كَثِيرًا " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " فَدَخَلَ خُفُّ بَعِيرِهِ فِي جُحْرِ يَرْبُوعٍ " . ¤ رَوَاهَا كُلَّهَا أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو جَنَابٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَقَدْ عَنْعَنَهُ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر جانے کے لئے ) نکلے ، جب ہم مدینہ منورہ سے باہر آ گئے ، تو سامنے سے ایک سوار ہماری طرف آ رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لگتا ہے ، یہ سوار تم لوگوں کی طرف آ رہا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ وہ ہماری طرف آ رہا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : جب وہ ہمارے پاس پہنچا ، تو اس نے سلام کیا ، ہم نے اسے سلام کا جواب دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے دریافت کیا : تم کہاں سے آ رہے ہو ؟ اُس نے جواب دیا : اپنے بیوی بچوں اور خاندان والوں کی طرف سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کہاں جا رہے ہو ؟ اُس نے عرض کی : میں اللہ کے رسول کی طرف جا رہا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اُن تک پہنچ گئے ، اُس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے تعلیم دیجیے کہ ایمان سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، تم نماز قائم کرو ، زکوۃ ادا کرو ، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو ، اس نے کہا: میں اقرار کرتا ہوں ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر اس کے اونٹ کا پاؤں جرذان ( ایک مخصوص قسم کے چوہے ) کی بل میں داخل ہوا ، تو وہ اونٹ گر گیا اور وہ آدمی بھی گر گیا ، وہ شخص سر کے بل گر کے انتقال کر گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس شخص کو میرے پاس لے کر آؤ ! تو سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ تیزی سے اس کی طرف گئے ، اُن دونوں حضرات نے اُسے بٹھایا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کا انتقال ہو گیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی طرف سے منہ پھیر لیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں حضرات سے فرمایا : تم نے مجھے اس شخص کی طرف سے ، جو منہ پھیرتے ہوئے دیکھا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے دو فرشتوں کو دیکھا کہ وہ اس پر جنت کے پھل نچھاور کر رہے تھے ، تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ مرتے وقت یہ بھوکا تھا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی قسم ! یہ ان لوگوں میں سے ایک ہے ، جن کے بارے میں ، اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کو نہیں ملایا ، انہی لوگوں کے لیے امن ہو گا اور وہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں“ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے بھائی کی دیکھ بھال کرو ! تو ہم اس کی میت اٹھا کر پانی کے پاس لے کر گئے ، ہم نے اسے غسل دیا اسے خوشبو لگائی ، اسے کفن پہنایا ، پھر اس کی میت اُٹھا کر قبر کے پاس لے کر گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لحد بنانا ! شق نہ بنانا ۔
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” یہ ان افراد میں سے ایک ہے ، جنہوں نے تھوڑا عمل کیا اور انہیں زیادہ اجر دیا گیا“ ۔
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : اُس کے اونٹ کا پاؤں یربوع ( مخصوص قسم کا چوہا ) کی بل میں داخل ہوا ۔
یہ تمام روایات امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں ، اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب ہے ، جو تدلیس کرتا ہے ، اور اس نے یہ روایت بھی ” عن “ کے صیغہ کے ساتھ نقل کی ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 116
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 359/4 اورده المؤلف فى زوائد المسند 39»