حدیث نمبر: 11661
وَعَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ قَالَ : قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : هَذَا الْقُرْآنُ مَأْدُبَةُ اللَّهِ ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَتَعَلَّمَ مِنْهُ شَيْئًا فَلْيَفْعَلْ ، فَإِنَّ أَصْفَرَ الْبُيُوتِ مِنَ الْخَيْرِ الَّذِي لَيْسَ فِيهِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ ، وَإِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي لَيْسَ فِيهِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ كَخَرَابِ الْبَيْتِ الَّذِي لَا عَامِرَ لَهُ ، وَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَخْرُجُ مِنَ الْبَيْتِ يَسْمَعُ فِيهِ سُورَةَ الْبَقَرَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ هَذِهِ الطَّرِيقِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ابواحوص بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” یہ قرآن ، اللہ تعالیٰ کا دستر خوان ہے ، تم میں سے جو شخص اس میں سے علم حاصل کر سکتا ہو ، اسے ایسا کرنا چاہیے کیونکہ بھلائی کے اعتبار سے سب سے زیادہ خالی وہ گھر ہوتا ہے ، جس میں اللہ کی کتاب میں سے کچھ نہ ہو اور وہ گھر ، جس میں اللہ کی کتاب میں سے کچھ نہ ہو ، اس کی مثال برباد گھر کی مانند ہے ، جسے آباد کرنے والا کوئی نہ ہو ، اور شیطان ایسے گھر سے نکل جاتا ہے ، جس میں وہ سورت بقرہ کی تلاوت سنتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں اور اس طریق کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11661
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (8644 و 8645 و 8642)»