مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي فَضْلِ الْقُرْآنِ ، وَمَنْ قَرَأَهُ . باب: قرآن اور اس کو پڑھنے والے کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ مَأْدُبَةُ اللَّهِ ، فَتَعَلَّمُوا مِنْ مَأْدُبَةِ اللَّهِ مَا اسْتَطَعْتُمْ . إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ هُوَ حَبْلُ اللَّهِ الَّذِي أَمَرَ بِهِ ، وَهُوَ النُّورُ الْمُبِينُ وَالشِّفَاءُ النَّافِعُ ، عِصْمَةٌ لِمَنِ اعْتَصَمَ بِهِ ، وَنَجَاةٌ لِمَنْ تَمَسَّكَ بِهِ ، لَا يَعْوَجُّ فَيُقَوَّمُ ، وَلَا يَزِيغُ فَيُسْتَعْتَبُ ، وَلَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ ، وَلَا يَخْلَقُ مِنْ رَدٍّ . اتْلُوهُ فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَأْجُرُكُمْ بِكُلِّ حَرْفٍ [ مِنْهُ ] عَشْرَ حَسَنَاتٍ . لَمْ أُقَلْ لَكُمْ : ( الم ) حَرْفٌ ، وَلَكِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ ، وَلَامٌ حَرْفٌ ، وَمِيمٌ حَرْفٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : یہ قرآن ، اللہ تعالیٰ کا دستر خوان ہے ، تو تم اس کے دستر خوان سے جہاں تک ہو سکے علم حاصل کرو ، یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی وہ رسی ہے ، جس کے بارے میں اس نے حکم دیا ہے اور یہ واضح کرنے والا نور ہے اور نفع دینے والی شفاء ہے اور اس شخص کے لیے عصمت ہے ، جو اس کے ذریعے عصمت حاصل کرنا چاہتا ہے اور اس شخص کے لئے نجات ہے ، جو اس کو مضبوطی سے تھام لیتا ہے ، یہ ٹیڑھا نہیں ہو گا کہ اسے سیدھا کیا جائے ، یہ خراب نہیں ہو گا کہ اسے ٹھیک کیا جائے اس کے عجائبات ختم نہیں ہوں گے اور یہ بار ، بار پڑھے جانے سے بوسیدہ نہیں ہو گا ، تم اس کی تلاوت کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کے ہر ایک حرف کے عوض میں تمہیں دس نیکیاں دے گا ، میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ ” الم “ ایک حرف ہے بلکہ ” ا “ ایک حرف ہے : ” ل “ ایک حرف ہے اور ” م“ ایک حرف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن ابراہیم ہجری ہے اور وہ متروک ہے ۔