مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي فَضْلِ الْقُرْآنِ ، وَمَنْ قَرَأَهُ . باب: قرآن اور اس کو پڑھنے والے کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : إِنَّ زَوْجِي مِسْكِينٌ لَا يَقْدِرُعَلَى شَيْءٍ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِزَوْجِهَا : ( أَتَقْرَأُ مِنْ الْقُرْآنِ شَيْئاً ؟ " قَالَ : أَقْرَأُ سُورَةَ كَذَا وَسُورَةَ كَذَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بَخٍ بَخٍ ، زَوْجُكِ غَنِيٌّ " فَانْزَيَتِ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا ثُمَّ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ بَسَطَ اللَّهُ عَلَيْنَا رِزْقَنَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ : حُيَيٌّ ، وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ .سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، اس نے عرض کی : میرا شوہر غریب آدمی ہے وہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے شوہر سے دریافت کیا : کیا تم قرآن کا کوئی حصہ پڑھ سکتے ہو ( یا تم نے قرآن کا کوئی حصہ سیکھا ہوا ہے ؟ ) اس نے عرض کی : میں فلاں سورت اور فلاں سورت پڑھ سکتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بہت خوب ، بہت خوب ، تمہارا شوہر تو خوشحال ہے ، پھر اس عورت نے اپنے شوہر کے ساتھ کام کاج کیا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! اللہ تعالیٰ نے ہمیں رزق میں کشادگی عطا کر دی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حیی ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔