مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي فَضْلِ الْقُرْآنِ ، وَمَنْ قَرَأَهُ . باب: قرآن اور اس کو پڑھنے والے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 11659
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ قَالَا : جَازَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَجُلٌ يَقْرَأُ الْحِجْرَ أَوْ سُورَةَ الْكَهْفِ ، فَسَكَتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَذَا الْمَجْلِسُ الَّذِي أُمِرْتُ أَنْ أَصْبِرَ نَفْسِي مَعَهُمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ مُتَّصِلًا وَمُرْسَلًا ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ أَبُو الْمِقْدَامِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جا رہے تھے ، ایک شخص سورت حجر یا شاید سورت کہف کی تلاوت کر رہا تھا ، وہ شخص خاموش ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ وہ محفل ہے ، جس کے بارے میں مجھے یہ حکم دیا گیا ہے ، میں اپنے آپ کو اُن کے ساتھ رکھوں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے ” متصل “ اور ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ثابت ابومقدام ہے اور وہ متروک ہے ۔