حدیث نمبر: 11637
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ ، وَعَمِلَ بِمَا فِيهِ ، وَمَاتَ فِي الْجَمَاعَةِ بَعَثَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ السَّفَرَةِ ، وَالْحُكَّامِ ، وَمَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ ، وَهُوَ يَنْفَلِتُ مِنْهُ لَا يَدَعُهُ فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ ، وَمَنْ كَانَ حَرِيصًا عَلَيْهِ لَا يَسْتَطِيعُهُ ، وَلَا يَدَعُهُ بَعَثَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ أَشْرَافِ أَهْلِهِ ، فُضِّلُوا عَلَى الْخَلَائِقِ كَمَا فُضِّلَتِ النُّسُورُ عَلَى سَائِرِ الطُّيُورِ ، وَكَمَا فُضِّلَتْ عَيْنٌ فِي مَرْجٍ عَلَى مَا حَوْلَهَا ، وَيُنَادِي مُنَادٍ : أَيْنَ الَّذِينَ كَانُوا لَا تُلْهِيهِمْ رِعْيَةُ الْأَنْعَامِ عَنْ تِلَاوَةِ كِتَابِي ؟ فَيَقُومُونَ ، فَيُلْبَسُ أَحَدُهُمْ تَاجَ الْكَرَامَةِ ، وَيُعْطَى الْفَوْزَ بِيَمِينِهِ ، وَالْخُلْدَ بِشِمَالِهِ ، فَإِنْ كَانَ أَبَوَاهُ مُسْلِمَيْنِ كُسِيَا حُلَّةً خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، فَيَقُولَانِ : أَنَّى هَذَا لَنَا ؟ فَيُقَالُ : بِمَا كَانَ وَلَدُكُمَا يَقْرَأُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ هُشَيْمٌ خَيْرًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص قرآن سیکھتا ہے اور اس میں موجود احکام پر عمل کرتا ہے اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہتے ہوئے مر جاتا ہے تو قیامت کے دن ، اللہ تعالیٰ اسے سٹیروں اور حکام کے ہمراہ اٹھائے گا اور جو شخص قرآن پڑھتا ہے ، اور وہ اُس سے نہیں پڑھا جاتا ہے اور وہ اُسے نہیں چھوڑتا ، تو اسے دگنا اجر ملے گا اور جو شخص اس کو سیکھنے کے حوالے سے حرص رکھتا ہو ، وہ نہ اس کو سیکھ سکتا ہو اور نہ اسے چھوڑتا ہو ، تو قیامت کے دن ، اللہ تعالیٰ اسے اپنے معزز بندوں میں زندہ کرے گا ، جنہیں دیگر تمام مخلوق پر وہ فضیلت حاصل ہو گی جو نسور کو دیگر تمام پرندوں پر حاصل ہوتی ہے ، جس طرح کسی چراگاہ میں موجود چشمے کو اس کے اردگرد جگہ پر حاصل ہوتی ہے پھر ایک منادی پکار کر یہ کہے گا : وہ لوگ کہاں ہیں ؟ کہ جانوروں کی دیکھ بھال ، اُنہیں میری کتاب کی تلاوت سے غافل نہیں کرتی تھی وہ لوگ کھڑے ہوں گے ، اُن میں سے ہر ایک کے سر پر کرامت کا تاج رکھا جائے گا اور کامیابی اس کے دائیں ہاتھ میں دی جائے گی اور ہمیشہ رہنا بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ، اگر اس کے ماں باپ مسلمان ہوں گے ، تو انہیں ایسا حلہ پہنایا جائے گا ، جو دنیا اور اس میں موجود سب چیزوں سے زیادہ بہتر ہو گا ، وہ کہیں گے : یہ ہمیں کیوں دیا جا رہا ہے ؟ تو ان سے کہا: جائے گا : کیونکہ تمہارا بچہ ، قرآن کا عالم تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے اور وہ متروک ہے ، ہشیم نے بھلائی کے ہمراہ اُس کی تعریف بیان کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11637
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (72/20)»